تذکرہ — Page 505
’’سونے والو جلد جاگو یہ نہ وقت ِ خواب ہے جو خبر دی وحیِ حق نے اس سے دِل بیتاب ہے زلزلہ سے دیکھتا ہوں مَیں زمیں زیرو زبر وقت اَب نزدیک ہے آیا کھڑا سیلاب ہے ہے سرِ راہ پر کھڑا نیکوں کی وہ مَولیٰ کریم نیک کو کچھ غم نہیں ہے گو بڑا گرداب ہے کوئی کشتی اَب بچا سکتی نہیں اس سَیل سے حیلے سب جاتے رہے اِک حضرتِ تــوّاب ہے‘‘ (اشتہار النّداء من وحی السّماء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۳ صفحہ ۳۵۵ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (ج) ’’اِک ضیافت ہے بڑی اے غافلو کچھ دن کے بعد جس کی دیتا ہے خبر فرقاں میں رحماں بار بار فاسقوں اور فاجروں پر وہ گھڑی دُشوار ہے جس سے قیمہ بن کے پھر دیکھیں گے قیمہ کا بگھار خوب کُھل جائے گا لوگوں پر کہ دِیں کس کا ہے دیں پاک کر دینے کا تیرتھ کعبہ ہے یا ہردوار وحیِ حق کے ظاہری لفظوں میں ہے وہ زلزلہ لیک ممکن ہے کہ ہو کچھ اَور ہی قسموں کی مار وہ تباہی آئے گی شہروں پہ اور دیہات پر جس کی دُنیا میں نہیں ہے مثل کوئی زینہار ایک دَم میں غمکدے ہوجائیں گے عشرت کدے شادیاں کرتے تھے جو پیٹیں گے ہوکر سوگوار وہ جو تھے اُونچے محل اور وہ جو تھے قصربریں پَست ہوجائیں گے جیسے پَست ہو اِک جائے غار ایک ہی گردش سے گھر ہوجائیں گے مٹی کا ڈھیر جس قدر جانیں تلف ہوں گی نہیں اُن کا شمار کب یہ ہوگا یہ خدا کو علم ہے پر اس قدر دی خبر مجھ کو کہ وہ دِن ہوں گے ایامِ بہار پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی یہ خدا کی وحی ہے اب سوچ لو اے ہوشیار (منقول اَز نوٹ بُک حضرت مسیح موعود علیہ السلام بحوالہ دُرّثمین شائع کردہ مکرم محمد یامین صاحب مرحوم ۲۱؍ اپریل۱۹۰۵ء (الف) ’’ اَمن اَست دَر مکان محبّت سرائے ما‘‘ ؎۱ (بدر جلد ۱ نمبر ۳ مورخہ ۲۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۴ مورخہ ۲۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) (ب) ’’ ۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے وقت ہم مع اپنے تمام اہل و عیال کے باغ میں چلے گئے تھے اور ایک میدان ہماری زمین کا جس میں پانچ ہزار آدمی کی گنجائش ہوسکتی تھی ہم نے سونے کے لئے ۱ (ترجمہ از مرتّب) ہمارے مکان محبّت سرائے میں امن ہے۔