تذکرہ — Page 498
سیاہ کپڑے ظاہر کرتے ہیں کہ اَب کوئی ڈرانے والا نشان ظاہر ہونے والا ہے اور یہ جو کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے اِس سے یہ مراد ہے کہ یہ ہ<mark>ما</mark>ری دعاؤں کا نتیجہ ہے کیونکہ نتیجہ بچے کو بھی کہتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶ ؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۱۲) ۵؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’ کَفَفْتُ عَنْ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ۔؎۱ فر<mark>ما</mark>یا۔بنی اسرائیل سے مراد وہ قوم ہے جس پر اس قسم کے واقعاتِ تکلیف وارد ہوئے ہوں جیسے کہ بنی اسرائیل پر فرعون کے ز<mark>ما</mark>نہ میں ہوئے تھے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہ<mark>ما</mark>ری ج<mark>ما</mark>عت بنی اسرائیل سے مشابہ ہے۔وہ لوگ جو اُن پر بے جا ظال<mark>ما</mark>نہ حملہ کرتے ہیں اُن کو خدا تعالیٰ نے فرعون سے مشابہت دی ہے اور پیشگوئی کا حاصل مطلب یہ ہے کہ ایسے بے جا حملہ کرنے والے روک دیئے جائیں گے اور ایسے نشان ظاہر ہوں گے کہ اُن کی باتوں کا لوگوں کے دلوں پر کچھ اثر نہیں ہوگا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۳۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۲ ۱) ۶؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’کوئی رُوح کہتی ہے ہم نے وہ جہان؎۲ چ<mark>ھو</mark>ڑ دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی آدمی ہم سے تعلقِ دوستی یا دشمنی رکھنے والا اِس جہان سے گزر جائے گا۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱ مورخہ ۶؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍ اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۲ ۱) ۷؍ اپریل۱۹۰۵ء ’’۴؍ اپریل ۱۹۰۵ء کو جب زلزلہ آیا تھا اس دن لاہور سے کئی دوستوں کے خط آئے… کہ ہم کو خداوند تعالیٰ نے اس آفت سے بچالیا مگر میر محمد اسمٰعیل صاحب کا ایک خط بھی نہ آیا… پھر دوسرے روز بھی کوئی خط نہ آیا… پھر تیسرے روز بھی کوئی خط نہ آیا اور کسی دوست نے بھی نہ لکھا کہ میر محمد اسمٰعیل صاحب <mark><mark>خیر</mark></mark>وعافیت سے ہیں۔تب اُن دونوں؎۳ کی حالت <mark>ما</mark>رے غم کے قریب موت کے ہوگئی اور حضرت کو دعا کے واسطے ۱ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے بنی اسرائیل سے (دشمن کا حملہ ) روک دیا۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فر<mark>ما</mark>یا۔’’ یہ میرے ساتھ عادت اللہ ہے کہ کشف میں اس دنیا کو ’’وہ جہان‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔‘‘ (ریویو آف ریلیجنز جلد ۴ نمبر ۴ بابت <mark>ما</mark>ہِ اپریل ۱۹۰۵ء ٹائٹل صفحہ آخر) ۳ یعنی حضرت اُمّ المؤمنینؓ ووالدہ صا حبہ حضرت اُمّ المؤمنینؓ۔(شمس)