تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 486 of 1089

تذکرہ — Page 486

کے کذّاب ہونے پر مُہر لگ گئی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۲۴، ۱۲۵) اگست ۱۹۰۴ء ’’ یَـا جِـبَالُ اسْـجُدِیْ مَعَہٗ وَ الطَّیْـرَ۔‘‘؎۱ (البدر جلد ۳ نمبر۲۹مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ء صفحہ۴) ستمبر۱۹۰۴ء ’’۱۔خواب میں دیکھا کہ کسی نے کھجوریں اور بیر پکے ہوئے پیش کئے ہیں۔۲۔نہایت خوشنما برفی ایک ڈَبّے میں دیکھی۔۳۔ایک اَسیر کے نظارہ کے بعد الہام ہوا۔یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْـمًا وَّاَسِیْـرًا۔؎۲ ۴۔کوئی کہتا ہے۔ہماری قِسمت آیت وار۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر۳۱ مورخہ۱۷؍ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ۸) ستمبر۱۹۰۴ء ’’اِنِّیْ مَعَ الرَّسُوْلِ فَقَطْ۔‘‘؎۳ (الحکم جلد ۸ نمبر۳۳ مورخہ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ۷) ۳ ؍اکتوبر ۱۹۰۴ء ’’ مورخہ ۳؍اکتوبر کو بوقت ساڑھے بارہ بجے الہام ہوا۔قَدْ جَآءَ الدِّیْنُ مِنَ النُّصْـرَۃِ ثُمَّ سَیَعُوْدُ مِنَ النُّصْـرَۃِ۔‘‘؎۴ (الحکم جلد ۸ نمبر۳۳ مورخہ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ حاشیہ) ۱۹۰۴ء ’’بہت سے حادثات اور عجیب کاموں کے بعد تیرا حادثہ ہوگا۔‘‘ (البدر جلد ۳ نمبر۳۹ مورخہ۱۶؍ اکتوبر۱۹۰۴ء صفحہ۸) ۲۰؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء ۱۔’’ مَیں نے خواب میں سراج الحق کو دیکھا اور مَیں انہیں کہتا ہوں کہ اِتنی مدّت تم کہاں رہے۔پھر مَیں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک الہام لکھوں اور وہ یہ ہے۔اِشْـرَاقُ الْعَارِضِ بَعْدَ اِصْلَاحِ الْعَارِضِ۔‘‘؎۵ ۲۔’’ اور خواب آئی کہ ایک مُرغ میرے بستر (پر ) بیٹھاہے۔مَیں نے اُس کی ٹانگ (پر)سوٹی ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے پہاڑو! تم بھی اس کی معیّت اختیار کرکے سجدہ میں گِر جاؤ اور پرندے بھی گِرجائیں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) وہ خدا کی محبّت میں مسکینوں، یتیموں اور اَسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں اپنے رسول کے ساتھ ہوں اور بس۔۴ (ترجمہ از مرتّب) دین پہلے بھی نصرت ہی سے غالب آیا تھا اور اب دوبارہ بھی وہ نصرت ہی کے ذریعہ سے غالب آئے گا۔۵ (ترجمہ از مرتّب) بیماری سے شفا پانے کے بعد رخسار کا چمکنا۔