تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 1089

تذکرہ — Page 471

۲۷ جنوری۱۹۰۴ء ۱۔’’ ۱۔نصرت و فتح و ظفر تابست سال۔۱؎ ۲۔’’ رَأَیْتُ زَوْجَتِیْ مَـحْلُوْقَ الرَّأْسِ۔مَا اَعْلَمُ تَعْبِیْرُہٗ اَللّٰھُمَّ اصْـرِفْ سُوْٓءَ ھٰذَا الرُّؤْیَا عَنِّیْ وَعَنْ زَوْجَتِیْ وَعَنْ وُلْدِیْ۔اٰمِیْن۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۳) ۸؍ فروری۱۹۰۴ء ’’ فرمایا کہ کھانسی کی شدت بہت ہوتی تھی اور بعض وقت حالت جان کندنی کی سی ہو جاتی تھی اور کوئی اُمید زندگی کی باقی نہ رہتی تھی کہ مجھے الہام ہوا۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِ یْنِ اللّٰہ اَفْوَاجًا۔؎۳ اس کی تفہیم یہ ہوئی کہ موت کا جو خیال کرتے ہو وہ غلط ہے۔یہ اُس وقت ہوگی جب خدا کی فتح اور نصرت ہوگی اور لوگ فوج دَر فوج اِس سلسلہ میں داخل ہوں گے۔‘‘ (البدر۴؎ جلد ۳ نمبر ۸ مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۱۵؍ فروری۱۹۰۴ء ’’رؤیا میں دیکھا کہ دو پیاز ہاتھ میں ہیں اور پھر آپ کو ایک کوٹھا پیازوں کا دکھایا گیا مگر اس کوٹھے کو کسی نے ایسی لات ماری کہ وہ اندر ہی اندر غرق ہوگیا اور ایک الہام ہوا۔۱ (ترجمہ از ناشر) نصرت اور فتح اور ظفر بیس سال تک۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے (رؤیا میں ) دیکھا کہ میری اہلیہ کا سر منڈھا ہوا ہے۔مَیں اس کی تعبیر نہیں جانتا۔اے اللہ ! اس رؤیا کے بد اثرات مجھ سے، میری اہلیہ سے اور میری اولاد سے دُور فرمادے۔آمین۔۳ (ترجمہ از مرتّب) جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے گی اور لوگوں کو تم اللہ کے دین میں فوج دَر فوج داخل ہوتے دیکھو گے۔۴ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ میں اس الہام کی تفصیل یوں درج ہے۔’’فرمایا کہ کھانسی جب شدت سے ہوتی ہے تو بعض وقت دم رکنے لگتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان کندن کی سی حالت ہے چنانچہ اس شدت کھانسی میں مجھے اللہ تعالیٰ کی غناء ذاتی کا خیال گزرا اور میں سمجھتا تھا کہ اب گویا موت کا وقت قریب ہے اس وقت الہام ہوا۔اِذَا جَآءَ نَصْـرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِ یْنِ اللّٰہ اَفْوَاجًا۔اس کے یہ معنی سمجھائے گئے کہ ایسا خیال اس وقت غلط ہے بلکہ اس وقت جب اِذَا جَآءَ نَصْـرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ کا نظارہ دیکھو اس وقت تو کوچ ضروری ہوجاتا ہے۔‘‘