تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 470 of 1089

تذکرہ — Page 470

۹؍ جنوری۱۹۰۴ء ۱۔’’ اِنِّیْ رَئَیْتُ فَــخِذَیْ شَاۃٍ مَـسْلُوْخَۃٍ طَـرِیَّـتَیْنِ۔اَرَانِیْ اَحَدٌ وَ ھُمَا فِیْ یَدَیْہِ مَا اَعْلَمُ ذَ ھَبَ بِـھِمَا اَوْ بَقِیَ قَآئِـمًا۔رَبِّ احْفَظْنِیْ وَ زَوْجِیْ وَ وُلْدِیْ وَاَحْبَابِیْ وَ اَوْلَادَ اَحْبَابِیْ مِنْ شَـرِّھٰذِ ہِ الرُّؤْیَـا۔اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ یْـرٌ۔اٰمِیْن۔؎۱ ۲۔’’ لَا تَثَرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ فَاتُـوْنِیْ بِاَھْلِکُمْ اَجْـمَعِیْنَ۔‘‘۲؎ ۳۔’’۔مَیں نے دیکھا کہ گویا مبارک کے بدن پر کچھ لرزہ ہے۔مَیں اس کو گولی دینا چاہتا ہوں اور باہر قاضی ضیاء الدین کھڑا ہے مَیں چاہتا ہوں اس کو ایک روپیہ شیرینی لانے کے لئے دوں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۲) ۱۳؍ جنوری۱۹۰۴ء ’’رؤیا۔مولوی محمد علی صاحب نے مجھ سے کہا کہ آپ چلے جائیں۔مَیں قادیان کو چلا گیا ہوں اور مَیں وضو کررہا ہوں اور فکر میں ہوں کہ ہم کیوں چلے آئے۔مچلکہ دیا ہوا تھا خواجہ کمال الدین صاحب سے مشورہ کرلیتے۔‘‘ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۱۴ ؍جنوری۱۹۰۴ء ۱۔’’قریباً ۲دو بجے رات کے الہام ہوا۔اَرَدْ تُّ اَنْ تَسْتَفْتِحَ۔؎۳ ۲۔’’رؤیا۔فرمایا۔ہم ایک جگہ جارہے ہیں۔ایک ہاتھی دیکھا۔اُس سے بھاگے اور ایک اَور کُوچہ میں چلے گئے۔لوگ بھی بھاگے جاتے ہیں۔مَیں نے پوچھا کہ ہاتھی کہاں ہے۔لوگوں نے کہا کہ وہ کسی اَور کُوچہ میں چلا گیا ہے۔ہمارے نزدیک نہیں آیا۔پھر نظارہ بدل گیا۔گویا گھر میں بیٹھے ہیں۔قلم پر مَیں نے دو نوک لگائے ہیں جو ولایت سے آئے ہیں۔پھر مَیں کہتا ہوں یہ بھی نامَرد ہی نکلا۔اس کے بعد الہام ہوا۔اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُ و انْتِقَامٍ۔‘‘؎۴ (الحکم جلد ۸ نمبر ۲ مورخہ ۱۷؍ جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۲) ۱ (ترجمہ از مرتّب)۔مَیں نے کھال اُتری بکری کی دو تازہ رانیں دیکھیں۔کسی نے مجھے دکھائیں جو اس کے ہاتھ میں تھیں۔مَیں نہیں جانتا کہ وہ ان کو لے گیا یا لئے کھڑا رہا۔اے میرے رَبّ اس رؤیا کے شر سے میری حفاظت فرما اور میری بیوی کی اور میری اولاد کی اور میرے دوستوں اور دوستوں کی اولاد کی۔یقیناً تُو ہر چیز پر قادر ہے۔آمین ۲ (ترجمہ از مرتّب)۔آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔پس تم سب اپنے اہل سمیت میرے پاس آؤ۔۳ (ترجمہ از مرتّب) مَیں چاہتا ہوں کہ آپ فتح کے لئے دعا کریں۔۴ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ یقیناً غالب ہے اور سزا دینے کی طاقت رکھتا ہے۔