تذکرہ — Page 469
۳ ؍جنوری۱۹۰۴ء ’’۱۔اِنِّیْ سَاَ نْصُـرُکَ۔۲۔نصرت و فتح و ظفر تابست؎۱ سال۔۳۔اِنِّیْ اَجِدُ رِیْـحَ یُـوْسُفَ لَوْ لَا اَنْ تُفَنِّدُ وْنِ۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۲) ۸؍ جنوری۱۹۰۴ء ’’۱۔طَـوَّلَ اللّٰہُ عُـمُرَکَ۔۲۔اَطَالَ اللّٰہُ بَقَآءَکَ۔۳۔کَمَّلَ اللّٰہُ اِعْزَازَکَ۔‘‘؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۲) ۱ (نوٹ از سید عبد الحی) یہ الہام ۴؍ جنوری اور ۲۷؍جنوری ۱۹۰۴ء کا ہے۔۱۹۰۴ء میں بیس سال جمع کرنے سے… ۱۹۲۴ء بنتا ہے۔مذکورہ الہام میں ۱۹۲۴ء کی طرف اشارہ ہے جب مسجد فضل لندن کا قیام عمل میں آیا تھا چنانچہ اب جو عظیم عالمی فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا ہے ان کا تعلق اسی مسجد سے ہے اور یہی سال طُلُوْعُ الشَّمْسِ مِنَ الْمَغْرِبِ کاآغاز اور عالمی فتح و ظفر کی ابتدا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اُس رؤیا کی تعبیر ہے جس کا ذکر کرتے ہوئے حضور تحریر فرماتے ہیں۔’’ ایسا ہی طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگا ہم اس پر بہرحال ایمان لاتے ہیں۔لیکن اس عاجز پر جو ایک رؤیا میں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ممالک مغربی جو قدیم سے ظلمت کفرو ضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منور کئے جائیں گے اور ان کو اسلام سے حصّہ ملے گا اور میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کررہا ہوں۔بعد اس کے مَیں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق ان کا جسم ہوگا۔سو میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ میں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راست باز انگریز صداقت کے شکار ہوجائیں گے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳ صفحہ ۳۷۶،۳۷۷) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔مَیں تجھے جلد ہی مدد دوں گا۔۲۔نصرت اور فتح اور ظفر بیس۲۰ سال تک۔۳۔مَیں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر تم مجھے بہکا ہوا نہ کہو۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔اللہ تیری عمر دراز کرے۔۲۔اللہ تعالیٰ تجھے دیر تک باقی رکھے۔۳۔خدا تیرا اعزاز کامل کرے۔