تذکرہ — Page 468
(ب) ۱۔زلزلہ کا ایک دھکا۔۲۔اِنّ؎۱ اللّٰہَ لَا یَضُـرُّ۔۳۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔۴۔تَرٰی نَصْـرًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَ اِنَّـھُمْ یَعْمَھُوْنَ۔‘‘ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۱) ۲ ؍جنوری۱۹۰۴ء ’’میری کھانسی کے لئے الہام۔۱۔اِنشاء اللہ خیرو عافیت۔خوش باش کہ عاقبت نکو خواہد بود۔؎۳ ۲۔غُلِبَتِ الرُّوْمُ فِیْ اَدْنَی الْاَرْضِ وَھُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِـھِمْ سَیَغْلِبُوْنَ۔؎۴ ۳۔اُس کوٹھہ نے دعا کی اور اِس کوٹھہ نے آمین کہی۔فَضْلٌ یَسِیْرٌ۔؎۵ ۴۔ایک کتاب دیکھی جس نے اوّل سطر میں بہشت کا ذکر کیا ہے ا ور پھر نارنول کا۔گویا جگہ اس کی نارنول ہے جو ایک شہر ہے۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲۲) بقیہ حاشیہ۔اولاد کے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا چنانچہ (حضرت منشی محمد خان صاحب ؓ کے فرزند ِ اکبر) منشی عبدالمجید خان صاحب افسربگی خانہ مقرر ہوئے اور بالآخر ترقی کرتے کرتے وہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہوئے اور اسی عہدے سے پنشن پائی۔(مکتوباتِ احمد جلد ۳ صفحہ ۶۷ مطبوعہ ۲۰۱۳ء) ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔اللہ تعالیٰ ضرر نہیں پہنچائے گا۔۳۔اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کریں اور جو نیکو کار ہوں۔۴۔تُو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد دیکھے گا اور وہ بہکتے رہیں گے۔۲ (نوٹ از ناشر) البدر مورخہ یکم جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۶ اور الحکم مورخہ ۱۷، ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ میں الہام نمبر۴ میں وَ اِنَّـھُمْ یَعْمَھُوْنَ کی بجائے وَ ھُمْ یَعْمَھُوْنَ کے الفاظ درج ہیں نیز درج بالا الہامات کے ساتھ ایک رؤیا باختلافِ الفاظ درج ہے جس کے البدر میں الفاظ یوں ہیں۔’’ رؤیا میں دیکھا کہ کوئی کہتاہے زلزلہ کا ایک دھکا مگر میں نے کوئی زلزلہ محسوس نہیں کیانہ دیوار و مکان ہلتا دیکھا۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) خوش ہو کہ انجام اچھا ہوگا۔۴ (ترجمہ از مرتّب) ۲رومی قریب کی زمین میں مغلوب ہوگئے اور وہ مغلوب ہونے کے بعد جلد ہی غالب ہوجائیں گے۔۵ (ترجمہ از مرتّب) آسان فضل۔(نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷؍جنوری ۱۹۰۴ء صفحہ ۲ میں اس الہام کے ساتھ یہ رؤیا درج ہے۔’’ ۱۳؍ جنوری کو حضرت اقدس ؑ نے فرمایا۔چند روز ہوئے ہم نے دیکھا کہ اُس رُوڑی پر جو گلی کے سرے پر ہے ایک کوٹھا ہے۔اُس کوٹھے نے دعا کی اور جس کوٹھے میں ہم رہتے ہیں اُس کوٹھے نے آمین کہی۔دعا برکات وغیرہ کے لئے تھی۔‘‘