تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 1089

تذکرہ — Page 448

۷۔اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاھُمَا۔۸۔اَلَمْ تَـرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِـاَصْـحٰبِ الْفِیْلِ۔اَلَمْ یَـجْعَلْ کَیْدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔۹۔کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَـا وَ رُسُلِیْ۔۱۰۔جِئْتَ فَصْلَ الْفَتْحِ۔‘‘ ۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۵) ۱۵؍ اگست۱۹۰۳ء ’’ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِ بِیْنَ۔‘‘ ؎۲ (البدر جلد۲ نمبر۳۲ مورخہ۲۸؍اگست ۱۹۰۳ء صفحہ۲۵۳۔الحکم جلد ۷نمبر۳۰ مورخہ۱۷؍ اگست ۱۹۰۳ء صفحہ ۲۰ حاشیہ) ۱۸؍ اگست۱۹۰۳ء ’’ ۱۔سَاُکْرِمُکَ؎۳ اِکْـرَامًا حَسَنًا۔۲۔سَاُکْرِمُکَ اِکْـرَامًا عَـجَبًا۔۳۔اِنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ کَانَـتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰـھُمَا۔۴۔قُلِ اللّٰہُ ثُمَّ ذَرْھُمْ فِیْ خَوْضِھِمْ یَلْعَبُوْنَ۔۵۔یَسْئَلُوْنَکَ؎۴ عَنْ ۱ (بقیہ ترجمہ از مرتّب) ۷آسمان اور زمین ایک گٹھڑی کی طرح بندھے ہوئے تھے تب ہم نے ان دونوں کو کھول دیا۔۸کیا تُو نے نہیں دیکھا کہ تیرے ربّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کِیا۔کیا اس نے ان کی تدبیر کو ضائع نہ کردیا۔۹اللہ نے لکھ چھوڑا ہے کہ مَیں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔۱۰تُو فتح کے موسم میں آیا ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب)جھوٹو ں پر اللہ کی لعنت ۳ (ترجمہ از مرتّب) ۱مَیں تیرا بہت اچھا اِکرام کروں گا۔۴ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ایک دفعہ جب مَیں گورداسپور میں ایک فوجداری مقدمہ کی و جہ سے (جو کرم دین جہلمی نے میرے پر دائر کیا تھا) موجود تھا۔مجھے الہام ہوا یَسْئَلُوْنَکَ الخ… بعد اس کے جب ہم کچہری میں گئے تو فریقِ ثانی کے وکیل نے مجھ سے یہی سوال کیا کہ کیا آپ کی شان اور آپ کا مرتبہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تریاق القلوب میں لکھا ہے۔مَیں نے جواب دیا کہ ہاں خدا کے فضل سے یہی مرتبہ ہے۔اُسی نے یہ مرتبہ مجھے عطا کیا ہے۔تب وہ الہام جو خدا کی طرف سے صبح کے وقت ہوا تھا قریباً عصر کے وقت پورا ہوگیا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۷۷،۲۷۸) خاکسار مرتّب عرض کرتا ہے کہ وکیل فریق مخالف نے جس کتاب کے متعلق مذکورہ بالا سوال کیا تھا وہ دراصل تحفہ گولڑویہ تھی تریاق القلوب نہیں تھی، اور تحفہ گولڑویہ کے جو صفحات وکیل فریق مخالف نے پیش کرکے ان کے متعلق مذکورہ بالا سوال کیا تھا وہ صفحہ ۴۸ لغایت ۵۰ تھے چنانچہ اس مقدّمہ کی مسل جس میں وہ کتاب شامل کی گئی تھی اور جس پر مُہرِ عدالت ثبت شدہ ہے عدالت سے اس کی نقل حاصل کرلی گئی ہے اور وہ ہمارے پاس محفوظ ہے، اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیان حضور کے اپنے الفاظ میں اِس طرح پر درج ہے۔’’ تحفہ گولڑویہ میری تصنیف ہے۔یکم ستمبر۱۹۰۲ء کو شائع ہوا۔پیر مہر علی کے مقابلہ پر لکھی ہے۔یہ کتاب