تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 1089

تذکرہ — Page 417

اس کے بعد پھر غنودگی ہوئی تو دیکھا کہ تریاق القلوب کا ایک صفحہ دکھایا گیا ہے جس پر عَلٰی شُکْرِ الْمَصَآئِبِ لکھا ہوا ہے جس کے یہ معنے ہوئے کہ ھٰذِہٖ صِلَۃٌ عَلٰی شُکْرِ الْمَصَآئِبِ گویا یہ روپیہ اور چھوارے شکرالمصائب کا صلہ ہے۔تیسری دفعہ پھر کچھ ورق دکھائے گئے جن پر بیٹوں کے بارے میں کچھ لکھا ہوا تھا اور جو اس وقت یاد نہیں ہے۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۹ مورخہ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۶۹) ۲۱؍ دسمبر۱۹۰۲ء ’’۲۱؍ و ۲۲؍ دسمبر کے درمیان کی شب کو دو اور ۳ بجے کے درمیان یہ الہام ہوا۔یَـأْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی۔‘‘۱؎ (البدر۲؎ جلد ۱نمبر ۹ مورخہ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۱ ) ۲۲؍ دسمبر۱۹۰۲ء (الف) ’’ اِنَّہٗ کَرِیْمٌ تَـمَشّٰی اَمَامَکَ وَ عَادٰی مَنْ عَادٰی ‘‘ ؎۳ (البدر جلد ۱ نمبر ۹ مورخہ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۱۔البدر جلد ۱نمبر۱۰ مورخہ۲؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۶۔الحکم جلد ۶نمبر۴۶ مورخہ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ۱۳، ۱۴) (ب) فرمایا۔کل جو الہام ہوا تھا یَـأْتِیْ عَلَیْکَ زَمَنٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی یہ اسی الہام کے آگے معلوم ہوتا ہے جہاں ایک الہام کا قافیہ جب دوسرے الہام سے ملتا ہے خواہ وہ الہامات ایک دُوسرے سے دس دن کے فاصلہ سے ہوں مگر مَیں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں کا تعلق آپس میں ضرور ہے یہاں بھی موسیٰ اور عادٰی کا قافیہ ملتا ہے اور پھر توریت میں اس قسم کا مضمون ہے کہ خدا نے موسیٰ کو کہا کہ تُو چل مَیں تیرے آگے چلتا ہوں۔‘‘ (البدر جلد ۱نمبر۱۰ مورخہ۲؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۶) ۲۳؍ دسمبر ۱۹۰۲ء نماز فجر سے پیشتر حضرت اقدس نے یہ رؤیاسنائی۔’’مَیں کسی اَور جگہ ہوں اور قادیان کی طرف آنا چاہتا ہوں۔ایک دو آدمی ساتھ ہیں۔کسی نے کہا راستہ بند ۱ (ترجمہ) یعنی تیرے پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جیسے موسیٰ پر آیا تھا۔(البدر مورخہ ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۱) ۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۲۴؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۱ میں اس الہام کی تفصیل یوں درج ہے۔’’ ۲۱؍دسمبر کی رات کو جس کی صبح کو ۲۲؍دسمبر تھی اور جو اَخیر عشرہ رمضان کی پہلی رات تھی آپ کو یہ الہام ہوا۔یَـأْتِیْ عَلَیْکَ زَمَانٌ کَمِثْلِ زَمَنِ مُوْسٰی۔فرمایا۔اس زمانہ میں جو بیس پچیس برس کے قریب ہوتا ہے یہ الہام کبھی نہیں ہوا۔موسیٰ کا نام تو کئی الہاموں میں رکھا گیا ہے۔‘‘ ۳ (ترجمہ) یعنی وہ کریم ہے تیرے آگے آگے چلتا ہے جس نے تیری عداوت کی گویا اس کی عداوت کی۔(البدر مورخہ۲۶؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۷۱)