تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 397 of 1089

تذکرہ — Page 397

کی طرف سے یہ الہام ہوا۔نَــزَلَ بِـــہٖ جَــبِــــیْـزٌ یعنی اُس پر جَبِیْز نازل ہوا اور اسی کو اس نے الہام یارؤیاسمجھ لیا۔جَبِیْز دراصل خشک اور بے مزہ روٹی کو کہتے ہیں جس میں کوئی حلاوت نہ ہو اور مشکل سے حلق میں سے اُتر سکے اور مردِ بخیل اور لئیم کو بھی کہتے ہیں جس کی طبیعت میں کمینگی اور فرومایگی اوربُخل کا حصّہ زیادہ ہو اور اس جگہ لفظ جَبِیْز سے مراد وہ حدیث النفس اور اَضْغَاثُ الْاَحْلَام ہیں جن کے ساتھ آسمانی روشنی نہیں اور بخل کے آثار موجود ہیں اور ایسے خیالات خشک مجاہدات کا نتیجہ، یا تمنّا اور آرزو کے وقت القاء ِشیطان ہوتا ہے اور یا خشکی اور سوداوی مواد کی وجہ سے کبھی الہامی آرزو کے وقت ایسے خیالات کا دل پر القاء ہوجاتا ہے، اور چونکہ اُن کے نیچے کوئی روحانیت نہیں ہوتی اس لئے الٰہی اصطلاح میں ایسے خیالات کا نام جَبِیْز ہے اور علاج توبہ اور استغفار اور ایسے خیالات سے اعراض کلّی ہے ورنہ جَبِیْز کی کثرت سے دیوانگی کا اندیشہ ہے۔خدا ہر ایک کو اس بلا سے محفوظ رکھے۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۲۴۳ حاشیہ نمبر۱) ۲۳ ؍اپریل ۱۹۰۲ء ’’رات کو عین خسوفِ قمر کے وقت میں چراغ دین؎۱ کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔اِنِّیْ اُذِیْبُ مَنْ یُّـرِیْبُ مَیں فنا کردوں گا، مَیں غارت کروں گا۔مَیں غضب؎۲ نازل کروں گا۔اگر اُس نے شک کیا اور اس پر ایمان نہ لایا اور رسالت اور مامور ہونے کے دعویٰ سے توبہ نہ کی اور خدا کے انصار جو سالہائے دراز سے خدمت اور نصرت میں مشغول اور دن رات صحبت میں رہتے ہیں ان سے عَفو ِ تقصیر نہ کرائی کیونکہ اُس نے جماعت کے تمام مخلصوں کی توہین کی کہ اپنے نفس کو اُن سب پر مقدم کرلیا۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۴۳، ۲۴۴ حاشیہ نمبر ۲) ۱ چراغ دین جمو نی مرتد۔(شمس) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ شخص ۴؍اپریل ۱۹۰۶ء کو مع اپنے دونوں بیٹوں کے طاعون سے فوت ہوکر میری پیشگوئی کی تصدیق کرگیا اور بڑی نومیدی سے اس نے جان دی اور مرنے سے چند دن پہلے ایک مباہلہ کا کاغذ اس نے لکھا جس میں اپنا اور میرا نام ذکر کرکے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ ہلاک ہو۔خدا کی قدرت کہ وہ کاغذ ابھی کاتب کے ہاتھ میں ہی تھا اور وہ کاپی لکھ رہا تھا کہ چراغ دین مع اپنے دونوں بیٹوں کے اُسی دن ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا۔فَاعْتَبِرُوْا یَـا اُولِی الْاَ بْصَارِ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۱۲۶)