تذکرہ — Page 395
۲۲یَـاْتِیْ عَلٰی جَھَنَّمَ زَمَانٌ لَّیْسَ فِیْـھَا اَحَدٌ۔ترجمہ۔۱۔خدا ایسا نہیں کہ قادیان کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تُو ان میں رہتا ہے۔۲۔وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست بُرد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔۳۔اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مدِّنظر نہ ہوتا تو مَیں اس گاؤں کو ہلاک کردیتا۔۴۔مَیں رحمان ہوں جو دُکھ کو دُور کرنے والا ہے۔۵۔میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں۔۶۔مَیں نِگہ رکھنے والا ہوں۔۷۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا ۸۔اور اس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے۔۹۔مَیں اپنے وقتوں کو تقسیم کردُوں گا کہ کچھ حصّہ برس کا تو مَیں افطار کروں گا یعنی طاعون سے لوگوں کو ہلاک کروں گا اور کچھ حصّہ برس کا مَیں روزہ رکھوں گا یعنی امن رہے گا اور طاعون کم ہوجائے گی یا بالکل نہیں رہے گی۔۱۰۔میرا غضب بھڑک رہا ہے۔۱۱۔بیماریاں پھیلیں گی اورجانیں ضائع ہوں گی مگر وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور ایمان میں کچھ نقص نہیں ہوگا وہ امن میں رہیں گے اور ان کو مَـخلصی کی راہ ملے گی۔یہ خیال مت کرو کہ جرائم پیشہ بچے ہوئے ہیں۔۱۲۔ہم ان کی زمین کے قریب آتے جاتے ہیں۔۱۳۔مَیں اندر ہی اندر اپنا لشکر تیار کررہا ہوں یعنی طاعونی کیڑوں کو پرورش دے رہا ہوں پس وہ اپنے گھروں میں ایسے سوجائیں گے جیسا کہ ایک اُونٹ مَرا رہ جاتا ہے۔۱۴۔ہم ان کو اپنے نشان پہلے تو دُور دُور کے لوگوں میں دکھائیں گے اور پھر خود انہی میں ہمارے نشان ظاہر ہوں گے۔۱۵یہ دن خدا کی مدد اور فتح کے ہوں گے۔۱۶۔مَیں نے تجھ سے ایک بقیہ حاشیہ۔یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْـھِمْ۔۱؎ ایسا ہی بجائے قُلْ یَـا عِبَادَاللّٰہِ کے قُلْ یَـا عِبَادِیْ بھی کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْکُــرُوا اللّٰہَ کَذِکْرِکُمْ اٰبَآءَکُمْ۔۲؎ پس اس خدا کے کلام کو ہوشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا اِتِّـخَاذِ وَلَد سے پاک ہے تاہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پَیروی کرو اور ہلاک ہوجاؤ اور میری نسبت بیّنات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے قُلْ اِنَّـمَا اَنَـا بَشَـرٌ مِّثْلُکُمْ یُـوْحٰی اِلَـیَّ اَنَّـمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَالْـخَیْرُکُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔‘‘۳؎ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۲۷ حاشیہ) ۱ (ترجمہ از ناشر) اللہ کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھ پر ہے۔(الفتح: ۱۱) ۲ (ترجمہ از ناشر) پس اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء کا ذکر کرتے ہو۔(البقرۃ: ۲۰۱) ۳ (ترجمہ از ناشر) کہہ دے کہ میں تو محض تمہاری طرح ایک بشر ہوں۔میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا معبود بس ایک ہی معبود ہے۔اور تمام تر بھلائی قرآن میں ہے۔