تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 1089

تذکرہ — Page 387

(مجموعہ آمین۔بشیر احمد۔شریف احمد۔مبارکہ کی آمین۔مطبوعہ ۲۷؍نومبر ۱۹۰۱ء) ۱۹۰۱ء ’’ ایک دفعہ مَیں نے خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد میرا چوتھا لڑکا فوت ہوگیا ہے۔اس سے چند دنوں کے بعد مُبارک احمد کو سخت تپ ہوا اور آٹھ دفعہ غش ہوکر آخری غش میں ایسا معلوم ہوا کہ جان نکل گئی ہے۔آخر دعا شروع کی اور ابھی مَیں دعا میں تھا کہ سب نے کہا کہ مبارک احمد فوت ہوگیا ہے۔تب مَیں نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو نہ دَم تھا نہ نبض تھی۔آنکھیں میّت کی طرح پتھرا گئیں تھیں لیکن دعا نے ایک خارق عادت اثر دکھلایا اور میرے ہاتھ رکھنے سے ہی جان محسوس ہونے لگی یہاں تک کہ لڑکا زندہ ہوگیا اور زندگی کے علامات پیدا ہوگئے۔تب مَیں نے بلند آواز سے حاضرین کو کہا کہ اگر عیسیٰ بن مریم نے کوئی مُردہ زندہ کیا ہے تو اس سے زیادہ ہرگز نہیں یعنی اِسی طرح کا مُردہ زندہ ہوا ہوگا نہ کہ وہ جس کی جان آسمان پر پہنچ چکی ہواور ملک الموت نے اس کی رُوح کو قرار گاہ تک پہنچا دیا ہو۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ۵۹۸) ۱ (ترجمہ از مرتّب) پاک ہے وہ ذات جس نے دشمنوں کو ذلیل و خوار کیا۔