تذکرہ — Page 322
اِلَی رَبِّ الْبَرَایَـا۔وَ تَـمْـحُـو الْـخَطَایَا۔وَ تَدْفَـعُ الْـبَـلَایَـا۔ھٰذَا مَا بَلَـغَـنَا مِنْ خَیْرِ الْبَرِیَّۃِ۔عَـلِیْہِ صَلَـوَاتُ اللّٰہِ وَ الْبَرَکَاتُ السَّنِیَّۃُ۔وَ اِنَّہٗ أَوْمَأَ فِیْہِ اِلٰی حِکَمِ الضَّحِیَّۃِ۔بِکَلِمَاتٍ کَالدُّرَرِ الْـبَـھِـیَّۃِ۔فَالْأَسَفُ کُلَّ الْأَسَفِ اَنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ھٰذِہِ النِّکَاتِ الْـخَـفِـیَّۃَ۔وَ لَا یَـتَّـبِعُوْنَ ھٰذِہِ الْوَصِـیَّۃَ۔وَ لَیْسَ عِنْدَھُمْ مَـعْـنَی الْعِیْدِ مِنْ دُوْنِ الْغُسْلِ وَ لَبْسِ الْـجَدِیْدِ۔وَ الْـخَـضْمِ وَ الْقَـضْـمِ مَـعَ الْاَھْلِ وَ الْـخَدَمِ وَ الْـعَبِیْدِ۔ثُـمَّ الْـخُرُوْجِ بِالزِّیْنَۃِ لِـلـتَّـعْیِیْدِ کَالصَّـنَادِیْدِ۔وَ تَرَی الْأَطَائِبَ مِنَ الْأَطْـعِمَۃِ مُنْتَـھٰی طَرَبِـھِمْ فِیْ ھٰذَا الْیَوْمِ۔وَ النَّفَائِسَ مِنَ الْاَلْبِسَۃِ غَایَۃَ اِرْبِـھِمْ لِاِرَائَۃِ الْقَوْمِ۔وَ لَا یَدْرُوْنَ مَا الْاَضْـحَاۃُ۔وَ لِاَیِّ غَرَضٍ یُذْبَحُ الْـغَـنَمُ وَ الْبَقَـرَاتُ۔وَ عِنْدَھُمْ عِیْدُھُمْ مِنَ الْبُکْرَۃِ اِلَی الْعَشِیِّ۔لَیْسَ اِلَّا لِلْاَکْـلِ وَ الشُّـرْبِ وَ الْعَیْشِ الْھَـنِیِّ۔وَ اللِّبَاسِ الْبَـھِیِّ۔وَ الْفَرَسِ الشَّرِیِّ۔وَ اللَّـحْمِ الطَّرِیِّ۔وَ مَا تَرٰی عَـمَلَـھُمْ فِیْ یَـوْمِـھِمْ ھٰذَا اِلَّا اِکْتِسَآءَ النَّاعِـمَات بقیہ ترجمہ۔اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں۔ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں اور آنجناب نے ان کلمات میں قربانیوں کی حکمتوں کی طرف فصیح کلموں کے ساتھ جو موتیوں کی مانند ہیں اشارہ فرمایا ہے۔پس افسوس اور کمال افسوس ہے کہ اکثر لوگ ان پوشیدہ نکتوں کو نہیں سمجھتے اور اس وصیت کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے نزدیک عید کے معنے بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ غسل کریں اور نئے کپڑے پہنیں اور طعام کو سارے مونہہ کے ساتھ اور دانتوں کے کناروں سے چباویں خود اور ان کے اہل و عیال اور نوکر اور غلام۔اور پھر آرائش کے ساتھ نماز عید کے لئے باہر نکلیں جیسے بڑے رئیس ہوتے ہیں اور تو دیکھے گا کہ اچھے کھانوں میں اس دن اُن کی سب سے بڑھ کر خوشی ہے اور ایسا ہی اچھی اور نفیس پوشاکوں میں انتہائی مرتبہ ان کی حاجتوں کا ہے تا قوم کو دکھلائیں اور نہیں جانتے کہ قربانی کیا چیز ہے۔اور کس غرض کے لئے بکریاں اور گائیاں ذبح کی جاتی ہیں۔اور ان کے نزدیک ان کی عید فجر سے لے کر عشاء کے وقت تک محض اس لئے ہے کہ خوب کھایا جائے اور پیا جائے اور عیش خوشگوار کیا جائے اور عمدہ لباس پہنا جائے اور چالاک گھوڑوں پر سواری کی جائے اور گوشت تازہ کھایا جائے اور اس دن ان کا کام بجز اس کے تو نہیں دیکھے گا کہ نرم اور ملائم کپڑے پہنیں