تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 294 of 1089

تذکرہ — Page 294

ایسے عہدہ پر ترقی یاب ہوئے جو عہدہ منصفی سے اُن کے لئے بہتر ہوا۔یعنی وہ تمام ریاست جموں کشمیر کے انسپکٹر مدارس ہوگئے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۹۱) قریباً ۱۸۹۸ء ؎۱ ’’ ایک دفعہ ہمارے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں بہت خراب ہوگئی تھیں۔پلکیں گر گئی تھیں اور پانی بہتا رہتا تھا۔آخر ہم نے دُعا کی تو الہام ہوا۔بَـرَّقَ طِفْلِیْ بَشِیْرٌ یعنی میرے لڑکے بشیر احمد کی آنکھیں اچھی ہوگئیں۔اِس الہام کے ایک ہفتہ بعد اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی اور آنکھیں بالکل تندرست ہوگئیں۔اس سے پہلے کئی سال انگریزی اور یونانی علاج کیا گیا تھا مگر کچھ فائدہ نہیں ہوتا تھا بلکہ حالت اَبتر ہوتی جاتی تھی۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۸) ۱۵؍جنوری ۱۸۹۹ء ’’ مَا کَانَ اللّٰہُ اَنْ یُّعَذِّ بَـھُمْ وَاَنْتَ فِیْـھِمْ۔‘‘؎۲ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام براوراق ملحقہ کتاب تعطیرالانام ) ۱۸؍جنوری ۱۸۹۹ء ’’ غِیْضَ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر اوراق ملحقہ کتاب تعطیر الانام) (ترجمہ) پانی خشک ہوگیا اور بات کا فیصلہ ہوا۔(حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۴۶) ۳؍فروری ۱۸۹۹ء (الف) ’’ مجھے ۲۱ ؍رمضان المبارک ۱۳۱۶ھ جمعہ کی رات میں جس میں انتشارِ رُوحانیت مجھے محسوس ہوتا تھا اور میرے خیال میں تھا کہ یہ لیلۃُ القدر ہے اور آسمان سے نہایت آرام اور آہستگی سے مینہ برس رہا تھا، ایک رؤیاہوا۔یہ رؤیااُن کے لئے ہے جو ہماری گورنمنٹ عالیہ کو ہمیشہ میری نسبت شک میں ڈالنے ۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) الہام کی یہ تاریخ تخمینی ہے اور اس تاریخ کے لحاظ سے حضرت میاں بشیر احمدؓ صاحب کی عمر اس وقت پانچ سال کی بنتی ہے حالانکہ آپ قریباً سات سال کی عمر تک آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا رہے اس لئے الہام کی تاریخ غالباً ۱۹۰۰ء کے قریب بنتی ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) خدا ایسا نہیں کہ انہیں اس حال میں عذاب دے کہ تُو ان میں ہو۔