تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 1089

تذکرہ — Page 287

۳؍ستمبر۱۸۹۸ء (الف) الہام… جو حضرت اقدس کو ۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء کو ہوا اور جو جناب نے مسجد مبارک میں لکھوا کر چسپاں کردیا ہے… ’’ غَثَمَ غَثَمَ غَثَمَ لَہٗ دَفَعَ اِلَیْہِ مِنْ مَّالِہٖ دَفْعَۃً۔‘‘ (الحکم جلد ۲ نمبر ۲۶،۲۷۔مورخہ ۶ و ۱۳؍ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۴) (ب) ’’چند ہفتہ ہوئے ہیں مجھے الہام ہوا تھا۔غَثَمَ لَہٗ۔دَفَعَ اِلَیْہِ مِنْ مَّالِہٖ دَفْعَۃً۔؎۱ اس میں تفہیم یہ ہوئی تھی کہ کوئی شخص کسی مطلب کے حصول پر بہت سا حصّہ اپنے مال میں سے بطور نذر بھجوائے گا۔مَیں نے اس الہام کو اپنی کتاب میں لکھ لیا تھا بلکہ اپنے گھر کے قریب دیوار پر مسجد کی، نہایت خوشخط یہ الہام لکھ کر چسپاں کردیا۔اس الہام میں نہ کسی مدت کا ذکر ہے کہ کب ہوگا اور نہ کسی انسان کا ذکر ہے کہ کس شخص کو ایسی کامیابی ہوگی یا ایسی مسرت ظہور میں آئے گی۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد۲ صفحہ ۳۸۳ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲۶؍ستمبر۱۸۹۸ء ’’ رات مَیں نے دیکھا کہ ایک بڑا پیالہ شربت کا پیا۔اس کی حلاوت اِس قدر ہے کہ میری طبیعت برداشت نہیں کرتی بایں ہمہ مَیں اس کو پیئے جاتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ مجھے پیشاب کثرت سے آتا ہے، اتنا میٹھا اور کثیر شربت مَیں کیوں پی رہا ہوں۔مگر اس پر بھی مَیں اُس پیالے کو پی گیا۔شربت سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور یہ اسلام اور ہماری جماعت کی کامیابی کی بشارت ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۲نمبر ۲۸،۲۹ مورخہ۲۰ ،۲۷؍ستمبر ۱۸۹۸ء صفحہ۳) ۱۸۹۸ء ’’ مَیں امام الزّمان ہوں اور خدا میری تائید میں ہے اور وہ میرے لئے ایک تیز تلوار کی طرح کھڑا ہے اور مجھے خبر دی گئی ہے کہ جو شرارت سے میرے مقابل پر کھڑا ہوگا وہ ذلیل اور شرمندہ کیا جائے گا۔دیکھو مَیں نے وہ حکم پہنچا دیا جو میرے ذمّہ تھا۔‘‘ (ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۴۹۷) ۱۸۹۸ء ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) لسان العرب میں ہے۔’’غَثَمَ لَہٗ مِنَ الْمَالِ غَثْمَۃً۔اِذَا دَفَعَ لَہٗ دَفْعَۃً ‘‘ اوراقرب الموارد میں ہے۔’’غَثَمَ لَہٗ: دَفَعَ لَہٗ دَفْعَۃً مِّنَ الْمَالِ جَیِّدَۃً۔‘‘ اس لئے الہام کا ترجمہ یہ ہوا۔اُس نے اپنے مال میں سے اس کے لئے بہت سا حصّہ ایک ہی بار الگ کردیا۔