تذکرہ — Page 288
۱۸۹۸ء ’’ خدا نے … مجھےبار بار الہام دیا ہے کہ اس زمانہ میں کوئی معرفت الٰہی اور کوئی محبّت ِ الٰہی تیری معرفت اور محبّت کے برابر نہیں۔‘‘ (ضرورۃ الامام۔روحانی خزائن جلد۱۳ صفحہ ۵۰۲) ۳؍اکتوبر۱۸۹۸ء ’’ صبح کو بعد نماز فجر فرمایا کہ رات کو بعد تہجد لیٹ گیا تو تھوڑی سی غنودگی کے بعد دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ’’سُرمہ چشم آریہ‘‘ کے چار ورق ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ آریہ لوگ اب خود اس کتاب کو چھپوا رہے ہیں۔‘‘ (الحکم جلد ۲ نمبر ۳۰مورخہ ۸؍اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۶) ۱۴؍اکتوبر ۱۸۹۸ء ۱۴؍اکتوبر ۱۸۹۸ء کو مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی خطبہ جمعہ دے رہے تھے۔دَورانِ خطبہ فرمایا۔’’بنی اسرائیل میں سے جو کافر ہوئے اُن پر خدا نے لعنت کی، داؤد ؑ اور مسیحؑ ابن مریم کی زبان سے۔اور یہ اس لئے ہوئی کہ وہ حدِّ اعتدال سے بڑھ نکلے اور نافرمانی کے لئے تجاوز کرگئے۔بنی اسرائیل کا ایسا حال ہوگیا تھا کہ نہی عنِ المنکر اور اَمر بِالمعروف قطعاً چھوڑ دیا تھا۔چھوٹے بڑوں کی شرارتوں پر اور بڑے چھوٹوں کی شیطنتوں پر رضامند ہوگئے تھے۔اس لئے مسیحؑ اور داؤد ؑ کی لسان سے اُن پر لعنت برسی… اب پھر وقت آیا ہے کہ دنیا میں سوکھے ہوئے درخت ہَرے ہوں۔خدا تعالیٰ کے فضل کی بارش ہورہی ہے۔زمانے کا امام آیا ہے جو ابن مریم کے نام سے آیا ہے اور اس کو داؤد بھی کہا گیا ہے۔پس بڑی ضروری اور خطرناک بات ہے کہ ایسا نہ ہو اس کے مقابلہ میں گندی اور ناپاک کوششیں کرنے والے اور اس سے منہ پھیرنے والے اُس لعنت کے نیچے آجاویں، جو داؤد ؑ اور مسیح ابن مریم کی زبان سے ہوئی۔‘‘ جس وقت حضرت مولانا صاحب نے یہ فقرہ (خط کشیدہ) فرمایا۔اسی وقت حضرت اقدس امام ہمام علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہام ہوا کہ۔’’ یہ لعنت ابھی وزیر آباد میں برسی ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۲ نمبر ۳۲ مورخہ ۲۲؍اکتوبر ۱۸۹۸ء صفحہ ۵ ب) ۴؍نومبر۱۸۹۸ء ’’ آج ۴؍نومبر ۱۸۹۸ء میں خواب میں مجھ کو دکھلایا گیا کہ ایک شخص روپیہ بھیجتا ہے۔مَیں بہت خوش ہوا اور یقین رکھتا تھا کہ آج روپیہ آئے گا چنانچہ آج ہی ۴؍نومبر ۱۸۹۸ء کو آپ کا