تذکرہ — Page 286
میری طرف سے عُذر داری کی گئی تو مَیں ایک دن چھوٹی مسجد میں چند احباب کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور آمد خرچ کا حساب کررہے تھے کہ مجھ پر ایک کشفی حالت طاری ہوئی اور اس میں دکھایا گیا کہ ہندو تحصیل دار بٹالہ جس کے پاس مقدمہ تھا بدل گیا ہے اور اس کے عوض ایک اَور شخص کرسی پر بیٹھا ہے جو مسلمان ہے اور اس کشف کے ساتھ بعض امور ایسے ظاہر ہوئے جو فتح کی بشارت دیتے تھے۔تب مَیں نے اُسی وقت یہ کشف حاضرین کو سنادیا جن میں سے ایک خوا جہ جمال الدین صاحب بی۔اے انسپکٹر مدارس جموں و کشمیر تھے اور بہت سے جماعت کے لوگ تھے۔چنانچہ اس کے بعد ایسا ہوا کہ وہ ہندو تحصیل دار یکایک بدل گیا اور اس کی جگہ میاں تاج الدین صاحب تحصیل دار بٹالہ مقرر ہوئے جنہوں نے نیک نیتی کے ساتھ اصل حقیقت کو دریافت کرلیا اور جو کچھ تحقیقات سے معلوم ہوا اس کی رپورٹ ڈکسن۱؎ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور میں بھیج دی اور نیک اتفاق یہ ہوا کہ صاحب موصوف بھی زیرک اور انصاف پسند تھے۔انہوں نے لکھ دیا کہ مرزا غلام احمد صاحب کا ایک شہرت یافتہ فرقہ ہے جن کی نسبت ہم بدظنّی نہیں کرسکتے یعنی جو کچھ عذر کیا گیا ہے وہ واقعی درست ہے۔اس لئے ٹیکس معاف اور مسل داخل دفتر ہو؎۲۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۰۶،۶۰۷) ۱۸۹۸ء ’’میری طبیعت کچھ ایسی واقع تھی کہ مَیں پوشیدہ رہنے کو بہت چاہتا تھا اور مَیں ملنے والوں سے تنگ آجاتا تھا اور کوفتہ خاطر ہوتا تھا۔یہاں تک کہ میرا باپ مجھ سے نومید ہوگیا اور سمجھا کہ یہ ہم میں ایک شب باش مہمان کی طرح ہے جو صرف روٹی کھانے کا شریک ہوتا ہے اور گمان کیا کہ یہ شخص خلوت کا عادی ہے اورلوگوں سے وسیع گھر کے ساتھ میل جول رکھنے والا نہیں۔سو وہ ہمیشہ مجھے اس عادت پر غضب سے اور تیز کاردوں سے ملامت کرتا اور مجھے دن رات اور ظاہر اور درپردہ دُنیا کی ترقی کے لئے نصیحت کیا کرتا تھا اور دُنیا کی آرائشوں کی طرف رغبت دیتا تھا اور میرا دل خدا کی طرف کھنچا جارہا تھا اور ایسا ہی میرا بھائی مجھے پیش آیا اور وہ اِن باتوں میں میرے باپ سے مشابہ تھا۔پس خدا نے اِن دونوں کو وفات دی اور زیادہ دیر تک زندہ نہ رکھا اور اُس نے مجھے کہا کہ ایسا؎۳ ہی کرنا چاہیےتھا تا تجھ میں خصومت کرنے والے باقی نہ رہیں اور اُن کا الحاح تجھ کو ضرر نہ کرے۔‘‘ (نجم الہدیٰ۔روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۵۱،۵۲)۱ Mr۔Dixon ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) بتاریخ ۱۷؍ستمبر ۱۸۹۸ء انکم ٹیکس معاف کیا گیا۔۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) عربی میں الہام کی عبارت یہ ہے۔’’کَذَالِکَ لِئَلَّایَبْقٰی مُنَازِعٌ فِیْکَ وَلَایَضُـرُّکَ اِلْـحَاحُ الْاَغْیَارِ۔‘‘ (نـجم الہدیٰ۔روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۵۲)