تذکرہ — Page 280
نومبر ۱۸۹۷ء ’’ حضور حـجّۃ الاسلام نے ایک رؤیادیکھی کہ گویا دارالامان میں طاعون آگئی ہے۔اس کی تفہیم کھجلی ہوئی۔آپ نے فرمایا۔قادیاؔن طاعون نامیمون سے مامون و مصئون رہے گا البتہ خارش کا مرض ہو تو تعجب نہیں۔اس پر جناب نے یہ بھی اجتہاد فرمایا ہے (کہ کھجلی پیدا کردینے والی دوا طاعون کو روک دے گی)۔‘‘ (الحکم جلد ۱ نمبر ۵ مورخہ ۲۳؍نومبر ۱۸۹۷ء صفحہ۴) دسمبر ۱۸۹۷ء ’’ انہی؎۱ دنوں میں مَیں نے کشف میں دیکھا ہے کہ اگلے سال بعض احباب دنیا میں نہ ہوں گے۔گو مَیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کشف کا مصداق کون کون احباب ہوں گے اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ اس لئے ہے تا ہر ایک شخص بجائے خود سفرِ آخرت کی طیاری رکھے۔‘‘ (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۶۲) ۱۸۹۸ء ’’ مجھے؎۲معلوم ہے کہ پچھلے قحط کے دنوں میں میرے مخدوم و امام (صَلَوَاۃُ اللہِ وَ سَلَام) (کو) اپنی جماعت کی حالت پر خیال تھا کہ اس میں بہت عیال دار اور (اکثر) غریب ہیں۔ان کو بڑی مشکلات پیش آئیں گی جس پر حضور کو الہام ہوا۔فَوَ رَبِّ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔‘‘؎۳ (الحکم جلد ۲ نمبر ۲۶ و ۲۷ مورخہ ۶، ۱۳؍ ستمبر۱۸۹۸ء صفحہ۱۱) ۱۸۹۸ء (الف) ’’ وَ اَوْحٰی اِلَیَّ رَبِّیْ وَ وَعَدَ نِیْ اَنَّہٗ سَیَنْصُرُنِیْ حَتّٰی یَبْلُغَ اَمْرِیْ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغَارِبَـھَا۔وَتَتَمَوَّجُ بُـحُوْرُ الْـحَقِّ حَتّٰی یُعْـجِبَ النَّاسَ حُبَابُ غَـوَارِبِـھَا۔‘‘؎۴ ( لُـجّۃ النُّور۔روحانی خزائن جلد۱۶ صفحہ ۴۰۸) (ب) ۱ یعنی ایامِ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء۔(مرزا بشیر احمد) ۲ شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (ترجمہ از مرتّب) مجھے آسمان اور زمین کے ربّ کی قسم ہے کہ یہ بات واقع ہونے والی ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) میرے ربّ نے میری طرف وحی بھیجی اور وعدہ فرمایا کہ وہ مجھے مدد دے گا یہاں تک کہ میرا کلام مشارق و مغارب میں پہنچ جائے گا اور راستی کے دریا موج میں آئیں گے یہاں تک کہ اس کی موجوں کے حباب لوگوں کو تعجب میں ڈالیں گے۔