تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 1089

تذکرہ — Page 264

(ب) ’’حضرت شیخ الاسلام؎۱درخطِ خود وعدہ می فرماید کہ در چہل دقیقہ نشانے توانم نمود۔بسیار خوب است۔یکے از اخبار غیب بذریعہ اشتہار ے شائع فرمایند بجائے چہل دقیقہ مہلت چہل ساعت اُو شاں را می دہیم۔پس اگر در چہل روز نشانے ازما ظاہر نہ شد و از یشاں در چہل ساعت ظاہر شد یا فرض کنید کہ از یشان نیز در چہل روز ظاہر شُد۔بر بزرگی او شاں ایمان خواہیم آورد۔و ترک دعویٰ خود خواہیم کرد۔و اگر نشانے از مادر یں مدّت بظہور؎۲ آمد و از یشاں چیزے بظہور نیامد ہمیں دلیل بر صدقِ ما وکذب شاں خواہد بود۔‘‘ (اشتہار واجب الاظہار مورخہ یکم فروری ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۱۹۸حاشیہ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) فروری ۱۸۹۷ء ’’ ایک دفعہ مَیں نے اسی لیکھرام کے متعلق دیکھا کہ ایک نیزہ ہے اس کا پھل بڑا چمکتا ہے اور لیکھرام کا سر پڑا ہوا ہے۔اُسے اس نیزے سے پرو دیا ہے اور کہا گیا کہ پھر یہ قادیان میں نہ آوے گا۔(ان ایام میں لیکھرام قادیان میں تھا اور اس کے قتل سے ایک ماہ پیشتر کا یہ واقعہ ہے)۔(البدر جلد ۱ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹۰) (ترجمہ از مرتّب) حضرت (حاجی شیخ محمد رضا طہرانی نجفی ملقّب بہ) شیخ الاسلام ( جو شیعہ ہیں) اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ ہم چالیس منٹ میں نشان دکھانے کے لئے تیار ہیں۔بہت اچھا۔اشتہار کے ذریعہ سے کوئی پیشگوئی شائع کریں۔ہم انہیں چالیس منٹ کی بجائے چالیس گھنٹے کی مہلت دیتے ہیں۔پس اگر چالیس روز کے عرصے میں ہماری طرف سے کوئی نشان ظاہر نہ ہوا اور ان کی طرف سے چالیس گھنٹہ کے اندر نشان ظاہر ہوگیا بلکہ چالیس گھنٹہ نہ سہی چالیس روز کے اندر بھی اگر اُن کی طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوا تو اُن کی بزرگی پر ہم ایمان لے آویں گے اور اپنے دعویٰ کو چھوڑ دیں گے اور اگر اس عرصہ میں ہماری طرف سے کوئی نشان ظاہر ہوا اور ان کی طرف سے کوئی ظاہر نہ ہوا تو یہ ہمارے صدق اور اُن کے کذب کی دلیل ہوگا۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’شیخ نجفی نے اپنے خط میں چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا اور ہم نے یکم فروری ۱۸۹۷ء سے چالیس روز میں… سو خدا کا احسان ہے کہ یکم فروری ۱۸۹۷ء سے پینتیس۳۵ دن تک یعنی چالیس ۴۰دن کے اندر نشان ہلاکت لیکھرام پشاوری وقوع میں آگیا… اب ہماری طرف سے نشان تو ہوچکا اور نجفی کا کذب کُھل گیا تاہم تنزّل کے طور پر ہم راضی ہیں کہ وہ مسجد شاہی کے منارہ سے اب نیچے گر کے دکھلاوے تاکہ اگر شیخ نجدی منظرین میں داخل ہے تو بارے شیخ نجفی کا قصہ تو تمام ہوا اور اگر اب بھی اپنا نشان نہ دکھلایا تو لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔‘‘ (اشتہار ۱۰؍مارچ ۱۸۹۷ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۲صفحہ۲۲۳،۲۲۴ مطبوعہ ۲۰۱۸ء)