تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 254 of 1089

تذکرہ — Page 254

یَتَاَتّٰی۔یَوْمَ یَجِیْٓءُ الْـحَقُّ وَ یُکْشَفُ الصِّدْقُ وَیَـخْسَرُ الـخَاسِـرُوْنَ۔۹۵۔اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ۔۹۶۔اَنْتَ مَعِیْ وَ اَنَـا مَعَکَ سِـرُّکَ سِـرِّیْ۔۹۷۔وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْٓ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ وَرَفَعْنَالَکَ ذِکْرَکَ۔۹۸۔یُـخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔اَئِـمَّۃُ الْکُفْرِ۔لَا تَـخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔۹۹۔غَرَسْتُ لَکَ بِیَدِیْ رَحْـمَتِیْ وَقُدْرَتِیْ۔۱۰۰۔لَنْ یَّـجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا۔۱۰۱۔یَنْصُرُکَ اللّٰہُ فِیْ مَوَاطِنَ۔۱۰۲۔کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلَبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ۔لَامُبَدِّ لَ لِکَلِمَاتِہٖ۔۱۰۳۔اَللّٰہُ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔۱۰۴۔قُلْ ھٰذَا فَضْلُ رَبِّیْ وَ اِنِّیْ اُجَرِّدُ نَفْسِیْ مِنْ ضُـرُوْبِ الْـخِطَابِ۔۱۰۵۔یَـا عِیْسٰٓی اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَـیَّ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَـوْمِ الْقِیٰمۃِ۔۱۰۶۔نَظَرَ اللّٰہُ اِلَیْکَ مُعَطَّرًا۔وَقَالُوْا اَتَـجْعَلُ فِیْـھَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْـھَا قَالَ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔وَقَالُوْا کِتَابٌ مُّـمْتَلِــیٌٔ مِّنَ الْکُفْرِ وَالْکَذِبِ۔قُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَنَـا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَکُمْ ثُمَّ نَبْتَـھِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَۃَ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔۱۰۷۔سَلَامٌ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ صَافَیْنَاہُ وَنَـجَّیْنَاہُ مِنَ الْغَمِّ۔تَفَرَّدْنَا بِذَالِکَ۔بقیہ ترجمہ۔اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا۔اس دن حق آئے گا اور سچ کھولا جائے گا اور جو خسران میں ہیں ان کا خسران ظاہر ہوجائے گا۔۹۵میری یاد میں نماز کو قائم کر۔۹۶تو میرے ساتھ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں۔تیرا بھید میرا بھید ہے۔۹۷ہم نے تیرا وہ بوجھ اُتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی اور تیرے ذکر کو ہم نے بلند کیا۔۹۸تجھے خدا کے سوا اَوروں سے ڈراتے ہیں۔یہ کفر کے پیشوا ہیں۔مت ڈر، غلبہ تجھی کو ہے۔۹۹مَیں نے اپنی رحمت اور قدرت کے درخت تیرے لئے اپنے ہاتھ سے لگائے۔۱۰۰خدا ہرگز ایسا نہیں کرے گا کہ کافروں کا مومنوں پرکچھ الزام ہو۔۱۰۱خدا تجھے کئی میدانوں میں فتح دے گا۔۱۰۲خدا کایہ قدیم نوشتہ ہے کہ مَیں اور میرے رسُول غالب رہیں گے۔اس کے کلموں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔۱۰۳وہ خدا جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔۱۰۴کہہ یہ خدا کا فضل ہے اور میں تو کسی خطاب کو نہیں چاہتا۔۱۰۵اے عیسیٰ! مَیں تجھے وفات دُوں گااور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیرے تابعداروں کو تیرے مخالفوں پر قیامت تک غلبہ بخشوں گا۔۱۰۶خدا نے تیرے پر خوشبودار نظر کی اور لوگوں نے دلوں میں کہا کہ اے خدا! کیا تو ایسے مفسد کو اپنا خلیفہ بنائے گا۔خدا نے کہا کہ جو کچھ مَیں جانتا ہوں تمہیں معلوم نہیں اور لوگوں نے کہا کہ یہ کتاب کُفر اور کذب سے بھری ہوئی ہے۔ان کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم اپنے بیٹوں اور عورتوں اور عزیزوں سمیت ایک جگہ اکٹھے ہوں پھر مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر لعنت بھیجیں۔۱۰۷ابراہیم یعنی اس عاجز پر سلام ہم نے اس سے دلی دوستی کی اور غم سے نجات دی۔یہ ہمارا ہی کام تھا بقیہ حاشیہ۔وقت ہوا کہ اِنَّ شَانِئَکَ ھُوَ الْاَبْتَرُ۔سو اگر اس ہندو زادہ بد فطرت کی نسبت ایسا وقوع میں نہ آیا اور وہ نامراد اور ذلیل اور رُسوا نہ مَرا تو سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۵۸،۵۹ حاشیہ)