تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 252 of 1089

تذکرہ — Page 252

اَلَا اِنَّـھُمْ ھُمُ السُّفَھَآءُ وَلٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۔۷۴۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔۷۵۔قِیْلَ ارْجِعُوْٓا اِلَی اللّٰہِ فَلَا تَـرْجِعُوْنَ۔وَقِیْلَ اسْتَحْوِذُوْا فَلَا تَسْتَحْوِذُوْنَ۔۷۶۔اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَعَلَکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ۔۷۷۔اَلْفِتْنَۃُ ھٰھُنَا فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُواالْعَزْمِ۔۷۸۔تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ مَاکَانَ لَہٗ اَنْ یَّدْ خُلَ فِیْـھَا اِلَّا خَآئِفًا۔۷۹۔وَمَا اَصَا بَکَ فَـمِنَ اللّٰہِ۔اَلَآ اِنَّـھَا فِتْنَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ لِیُحِبَّ حُبًّا جَـمًّا۔حُبًّا مِّنَ اللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْاَکْرَمِ۔عَطَآءً غَیْرَ مَـجْذُوْذٍ۔۸۰۔وَقْتُ الْاِبْتِلَآءِ وَ وَقْتُ الْاِصْطِفَآءِ۔وَلَا یُرَدُّ وَقْتُ الْعَذَابِ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ۔۸۱۔وَلَا تَـھِنُوْا وَلَا تَـحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔۸۲۔وَعَسٰی اَنْ تُـحِبُّوْا شَیئًا وَّھُوَ شَـرٌّ لَّکُمْ وَ عَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْئًا بقیہ ترجمہ۔ایمان لائے۔خوب یاد رکھو کہ درحقیقت بیوقوف اورسفیہ یہی لوگ ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم کیسی غلطی پر ہیں۔۷۴ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا سے محبت کرتے ہو تو آؤ میری پیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔۷۵کہا گیا کہ تم رجوع کرو سو تم نے رجوع نہ کیا۔اور کہا گیا کہ تم اپنے وساوس پر غالب آجاؤ سو تم غالب نہ آئے۔۷۶سب تعریف خدا کو ہے جس نے تجھے مسیح ابن مریم بنایا۔۷۷اس جگہ فتنہ ہے سو اولوالعزم لوگوں کی طرح صبرکر۔۷۸ابو لہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہوگیا۔اس کو نہیں چاہیے تھا کہ وہ اس فتنہ میں دخل دیتا یعنی اس کا بانی ہوتا مگر ڈرتے ہوئے۔۷۹اور تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی مگر اُسی قدر جو خدا نے مقرر کی۔یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے تا وہ تجھ سے بہت ہی پیار کرے۔یہ خدا کا پیار کرنا ہے جو غالب اور بزرگ ہے اور یہ پیار وہ عطا ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی۔۸۰ابتلا کا وقت ہے اور اصطفا کا وقت ہے اور عذاب کا وقت مجرموں کے سر پر سے کبھی نہیں ٹل سکتا۔۸۱اور اے اس مامور کی جماعت سُست مت ہوجانا اور غم میں نہ پڑجانا۔اور بالآخر غلبہ تمہیں کو ہے اگر تم ایمان پر ثابت رہو گے۔۸۲یہ ممکن ہے کہ ایک چیز کو تم چاہو اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی نہ ہو، اور ایک چیز سے نفرت کرو اور وہ دراصل تمہارے لئے اچھی ہو بقیہ حاشیہ۔جگہ پانی سے مراد ایمان کا پانی، استقامت کاپانی، تقویٰ کا پانی، وفا کا پانی، صدق کا پانی، حُبّ اللہ کا پانی ہے جو خدا سے ملتا ہے اور فشل بزدلی کو کہتے ہیں جو شیطان سے آتی ہے اور ہریک بے ایمانی اور بدکاری کی جڑ بزدلی اور نامردی ہے۔جب قوتِ استقامت باقی نہیں رہتی تو انسان گناہ کی طرف جھک جاتا ہے۔غرض فشل شیطان کی طرف سے ہے اور عقائد صالحہ اور اعمالِ طیبہ کا پانی خدا تعالیٰ کی طرف سے۔جب بچہ پیٹ میں پڑتا ہے تو اس وقت اگر بچہ سعید ہے اور نیک ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر رُوح القدس کا سایہ ہوتا ہے اور اگر بچہ شقی ہے اور بَد ہونے والا ہے تو اس نطفہ پر شیطان کا سایہ ہوتا ہے اورشیطان اس میں شراکت رکھتا ہے اور بطور استعارہ وہ شیطان کی ذُریّت کہلاتی ہے اور جو خدا کے ہیں وہ خدا کے کہلاتے ہیں جن کو پہلی کتابوں میں بطور استعارہ ابناء اللہ کہا گیا ہے۔‘‘ (انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد۱۱ صفحہ ۵۶،۵۷ حاشیہ)