تذکرہ — Page 245
۲۴؍ مئی ۱۸۹۵ء ’’ جب یہ۱؎ پیدا ہوا تھا تو اُس وقت عالم کشف۲؎ میں مَیں نے دیکھا کہ آسمان پر سے ایک روپیہ اُترا اور میرے ہاتھ پر رکھا گیا۔اس پر لکھا تھا۔مُعَـمَّـــرُ اللّٰہِ۔‘‘۳؎ (بدرؔ جلد ۶ نمبر ۱،۲ مورخہ ۱۰؍ جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۱۸۹۵ء ’’ مجھے اپنے مرض ذیابیطس کی و جہ سے آنکھوں کا بہت اندیشہ تھا کیونکہ اس مرض کے غلبہ سے آنکھ کی بینائی کم ہو جایا کرتی ہے اور نزول الماء ہوجاتا ہے۔اِس اندیشہ کی و جہ سے دعا کی گئی تو الہام ہوا کہ نَـزَلَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی ثَلٰثٍ اَلْعَیْنِ وَ عَلَی الْاُخْرَیَیْنِ۔‘‘ یعنی رحمت تین اعضا پر نازل ہوگی ایک تو آنکھ اور دو اَور عضو۔اس جگہ آنکھ کا ذکر تو کردیا لیکن باقی دو اعضا کی تصریح نہیں فرمائی مگر لوگ کہا کرتے ہیں کہ زندگی کا لُطف تین عضو کے بقا میں ہے۔آنکھ، کانؔ، پرانؔ۔اس الہام کے پورا ہونے کی کیفیت اس سے معلوم ہوسکتی ہے کہ قریباً اٹھارہ سال سے یہ مرض مجھے لاحق ہےاور ڈاکٹر اور حکیم لوگ جانتے ہیں کہ اس مرض میں آنکھوں کو کیسا اندیشہ ہوتا ہے پھر کونسی طاقت ہے جس نے پہلے سے خبر دے دی کہ یہ قانون تجھ پر توڑ دیا جائے گا اور بعد میں ایسا ہی کرکے دکھا دیا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۹۲،۵۹۳) دسمبر ۱۸۹۵ء ’’ میں نے اس تاریخ سے پہلے جو جمادی الثانی ۱۳۱۳ھ روز شنبہ مطابق ۷؍دسمبر ۱۸۹۵ء ہے دیکھا تھا کہ میرے تینوں لڑکے ایک جگہ بیٹھے ہیں اور مَیں کہتا ہوں یعنی ان کو مخاطب کرکے کہ ہم میں اور تم میں صرف ایک دن کی میعاد ہے۔اس کی مَیں نے یہ تعبیر کی ہے کہ یہ چوتھے لڑکے کی روح مجھ میں بولی ہے۔‘‘ (رجسٹر متفرق یادداشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۰۴) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) مراد حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ ہیں۔یہ رؤیا حضورؑ نے جنوری ۱۹۰۷ء میں بیان فرمائی ہے مگر چونکہ ساتھ فرما دیا ہے کہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی پیدائش کے وقت دیکھی تھی۔اِس لئے اسے صاحبزادہ موصوف کی پیدائش کے سن کے الہامات و کشوف میں درج کیا گیا ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ کشف ان الفاظ میں درج ہے۔’’جب یہ پیدا ہوا تھا تو اُس وقت عالمِ کشف میں آسمان پر ایک ستارہ دیکھا تھا جس پر لکھا تھا۔مُعَـمَّـــرُ اللّٰہِ۔‘‘ ۳ (ترجمہ از مرتّب) خدا کی طرف سے عمر پانے والا۔