تذکرہ — Page 232
(ج) ’’ بعض وقت ایک باریک پیشگوئی لوگوں کے امتحان کے لئے ہوتی ہے تا خدا تعالیٰ اُنہیں دکھلاوے کہ ان کی عقلیں کہاں تک ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ حدیث نبوی کی رُو سے اِس پیشگوئی میں کج دل لوگوں کا امتحان بھی منظور تھا اِس لئے باریک طور پر پوری ہوئی مگر اس کے اور بھی لوازم ہیں جو بعد میں ظاہر ہوں گے جیسا کہ کشف ِ ساق کی پیشگوئی اِس کی طرف اشارہ کرتی ہے۔‘‘ (اشتہار ملحقہ ضیاء الحق۔روحانی خزائن جلد۹ صفحہ ۳۱۹) ۱۸۹۴ء ’’ خدائے تعالیٰ نے کئی دفعہ میرے پر ظاہر کیا ہے کہ اِس جماعت پر ایک ابتلاء آنے والا ہے تا اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون سچا ہے اور کون کچا ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ۔مکتوبات احمدجلد ۲ صفحہ ۲۰۲ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۴ء ’’اِس؎۱تحریر کے لکھنے کے بعد مجھ پر نیند غالب ہوگئی اور مَیں سو گیا اور خواب میں دیکھا کہ ۱ یعنی تحریر متعلق سعد اللہ لدھیانوی۔(مرزا بشیر احمد) (نوٹ) حضرت مولانا مولوی حاجی حافظ نور الدین خلیفۃ المسیح اوّل ؓ فرماتے ہیں۔’’میرا لڑکا عبدالحی۲؎ آیۃ اللہ ہے۔محمد احمد مَر گیاتھا۔لدھیانہ کے ایک معترض نے اس پر اعتراض کیا …مَیں نے اس لودھیانوی معترض کی تحریر کا کچھ بھی لحاظ نہ کیا اور اُس پر کوئی توجہ نہ کی مگر میرے آقا و امام نے اس پر توجہ کی تو اُس کو وہ بشارت ملی جو انوارالاسلام کے صفحہ ۲۶ (روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۲۷) پر درج ہے اور پھر اس کے چند برس بعد یہ بچہ جس کا نام عبدالحی ہے پیدا ہوا۔کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے جن کے علاج میں میری طبابت گرو تھی۔عبدالحی کو ان پھوڑوں کے باعث سخت تکلیف تھی اور وہ ساری رات اور دن بھر تڑپتا اور بے چین رہتا۔جس کے ساتھ ہم کو بھی کرب ہوتا۔مگر ہم مجبور تھے، کچھ نہ کرسکتے تھے۔ان پھوڑوں کے علاج کی طرف بھی اس کشف میں ایما تھا اور اس کی ایک جُزو ہلدی تھی اور اس کے ساتھ ایک اور دوائی تھی جو یاد نہ رہی تھی۔ہم نے اس کے اضطراب اور کرب کو دیکھ کر چاہا کہ ہلدی لگائیں۔آپ نے کہا کہ مَیں جرأت نہیں کرسکتا کیونکہ اس کا دوسرا جُزو یاد نہیں۔مگر ہم نے غلطی کھائی اور ہلدی لگادی۔جس سے وہ بہت ہی تڑپا اور آخر ہم کو وہ دھونی پڑی۔اس سے ہمارا ایمان تازہ ہوگیا کہ ہم کیسے ضعیف اور عاجز ہیں کہ اپنے قیاس اور فکر سے اتنی بات نہیں نکال سکے اور یہ مامور اور مُرسلوں کی جماعت ایک مشین اور کَلْ کی طرح ہوتے ہیں جس کے چلانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے۔اس کے بُلائے بغیر یہ نہیں بولتے۔غرض میرا ایمان ان نشانوں سے بھی پہلے کا ہے اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نشان کے بغیر نہ چھوڑا۔سینکڑوں نشان دکھادیئے۔‘‘ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۱۱۵،۱۱۶ مطبوعہ ۲۰۰۵ء) ۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ لڑکا اس پیشگوئی کے پانچ سال بعد ۱۵؍فروری ۱۸۹۹ء کو پید اہوا۔جس کا نام عبدالحی رکھا گیا۔