تذکرہ — Page 225
۱۸۹۴ء ’’ وَرَاَیْتُہٗ مَرَّۃً اُخْرٰی قَآئِـمًا عَلٰی عَتَبَۃِ بَابِیْ وَ فِیْ یَدِ ہٖ قِرْطَاسٌ کَصَحِیْفَۃٍ فَاُلْقِیَ فِیْ قَلْبِیْ اَنَّ فِیْـھَا اَسْـمَآءَ عِبَادٍ یُّـحِبُّوْنَ اللّٰہَ وَ یُـحِبُّـھُمْ وَ بَیَانُ مَرَاتِبِ قُـرْ۔بِـھِمْ عِنْدَ اللّٰہِ فَقَرَأْتُـھَا فَاِذَا فِیْ اٰخِرِھَا مَکْتُوْبٌ مِّنَ اللّٰہِ تَعَالٰی فِیْ مَرْتَبَتِیْ عِنْدَ رَبِّیْ۔ھُوَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ فَکَادَ اَنْ یُّعْرَفَ بَیْنَ النَّاسِ۔ترجمہ۔اور ایک مرتبہ مَیں نے اُس؎۱کو دیکھا کہ میرے درازہ کی دہلیز پر کھڑا ہے اور ایک کاغذ خط کی طرح اُس کے ہاتھ میں ہے۔سو میرے دل میں ڈالا گیا کہ اس خط میں ان لوگوں کے نام درج ہیں کہ جو خدا تعالیٰ کو دوست رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ اُنہیں دوست رکھتا ہے اور اُس میں اُن کے اُن مراتب ِ قرب کا بیان ہے جو عنداللہ اُن کو حاصل ہیں۔پس مَیں نے اس خط کو پڑھا۔سو کیا دیکھتا ہوں کہ اس کے آخر میں میرے مرتبہ کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لکھا ہوا ہے کہ وہ مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ میری توحید اور تفرید اور عنقریب وہ لوگوں میں مشہور کیا جائے گا۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۵۷) ۱۸۹۴ء (الف) ’’فَالْـحَقُّ الَّذِیْ اَرَانَـا الْـحَقُّ الْـحَکِیْمُ وَ اَنْبَاَنَـا اللَّطِیْفُ الْعَلِیْمُ ھُوَ اَنَّ حَرْبَۃَ الْمَسِیْحِ الْمَوْعُوْدِ سَـمَاوِیَّۃٌ لَّا اَرْضِیَّۃٌ وَّ مُـحَارَبَاتُہٗ کُلُّھَا بِاَنْظَارٍ رُّوْحَانِیَّۃٍ لَّا بِاَسْلِحَۃٍ جِسْمَانِیَّۃٍ وَّ ھُوَ یَقْتُلُ الْاَعْدَآءَ بِعَقْدِ النَّظَرِ وَالْھِمَّۃِ اَعْـنِیْ بِتَصَـرُّفِ الْبَاطِنِ وَ اِتْـمَامِ الْـحُــجَّۃِ لَابِـالسِّھَامِ وَ الرِّمَاحِ وَ الْمَشْـرَفِیَّۃِ وَ لَہٗ مَلَکُوْتُ السَّمَآءِ لَا مَلَکُوْتُ الْاَرْضِیْنَ۔ترجمہ۔پس وہ حق جو ہم کو حکیمِ مطلق نے دکھلایا اور لطیف علیم نے بتلایا وہ یہی ہے کہ مسیح موعود کا حَربہ آسمانی ہے نہ زمینی اور لڑائیاں اُس کی روحانی نظروں کے ساتھ ہیں نہ جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ، اور وہ دشمنوں کو نظر اور ہمت سے قتل کرے گا۔یعنی تصرّفِ باطن اور اتمامِ حجّت کے ساتھ نہ تیر اور نیزہ اور تلوار سے اور اُس کی آسمانی بادشاہت ہے نہ زمینی۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸صفحہ۷۲) (ب) ’’ وَاَلْھَمَنَا اَنَّ الْـحَرْبَ حَرْبٌ رُوْحَانِیٌّ بِنَظَرٍ رُوْحَانِـیٍّ۔ترجمہ۔اور ہمارے ربّ نے ہمیں الہام دیا کہ مسیح موعود کی لڑائیاں رُوحانی لڑائیاں ہیں جو رُوحانی نظر کے ساتھ ہوں گی۔‘‘ (نورالحق حصّہ اوّل۔روحانی خزائن جلد۸ صفحہ ۷۵) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو-(مرزا بشیر احمد)