تذکرہ — Page 164
بِـاٰیٰتِنَا وَ کَانُوْا بِـھَا یَسْتَـھْزِءُوْنَ۔سَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَ یَـرُدُّھَا اِلَیْکَ۔لَا تَـبْدِ۔یْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۴۴۱ تا۴۴۳) ۱۸۹۱ء ’’یہ وہ زمانہ ہے جو اس عاجز پر کشفی طور پر ظاہر ہوا جو کمال طغیان اس کا اُس سَن ہجری میں شروع ہوگا۔جو آیت وَ اِنَّـا عَلٰی ذَهَابٍۭ بِهٖ لَقَادِ رُوْنَ؎۱ میں بحساب جمل مخفی ہے۔یعنی ۱۲۷۴ھ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ۴۵۵) ۱۸۹۱ء ’’خدائے تعالیٰ نے اپنے کشف ِ صریح سے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ قرآنِ کریم میں مثالی طور پر ابنِ مریم کے آنے کا ذکر ہے؎۲۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۴۶۰) ۱۸۹۱ء ’’اُس نے محض اپنے فضل سے بغیر وسیلہ کسی زمینی والد کے اس ابنِ مریم کو رُوحانی پیدائش اور روحانی زندگی بخشی جیسا کہ اس نے خود اس کو اپنے الہام میں فرمایا۔ثُمَّ اَحْیَیْنَاکَ بَعْدَ مَآ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی وَ جَعَلْنَاکَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ یعنی پھر ہم نے تجھے زندہ کیا بعد اس کے جو پہلے قرنوں کو ہم نے ہلاک کردیا اور تجھے ہم نے مسیح ابنِ مریم بنایا۔یعنی بعد اس کے جو عام طور پر مشائخ اور علماء میں موت روحانی پھیل گئی۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۴۶۴) ۱۸۹۱ء ’’ قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُوْمِنِیْنَ۔اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنِّی الْـحَزَنَ وَ اٰتَانِیْ مَا لَمْ یُـؤْتَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔؎۳ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ سے مراد زمانہ حال کے لوگ یا آئندہ زمانہ کے ہیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ۴۷۹) بقیہ ترجمہ۔نشانوں کو جھٹلایا اور وہ پہلے سے ہنسی کررہے تھے۔خدا ان کے مقابل تجھے کافی ہوجائے گا اور اس کو تیری طرف لوٹائے گا۔اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں۔تیرا ربّ وہ قادر ہے کہ جو کچھ چاہے وہی ہوجاتا ہے۔۱ (ترجمہ از مرتّب) یقیناً ہم اُس کو لے جانے پر قادر ہیں۔(المؤمنون: ۱۹) ۲ تفصیل مذکورہ حوالہ میں پڑھیں۔(ناشر) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہام انجام آتھم۔روحانی خزائن جلد ۱۱ صفحہ ۷۷ پر یُوں درج ہے۔’’۔اَلْـحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْھَبَ عَنِّی الْـحَزَنَ وَاَعْطَانِیْ مَا لَمْ یُعْـطَ اَحَدٌ مِّنَ الْعَالَمِیْنَ۔‘‘