تذکرہ — Page 161
۱۸۹۱ء ’’ ایک؎۱مدّت کی بات ہے جو اس عاجز نے خواب میں دیکھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارکہ پر مَیں کھڑا ہوں اور کئی لوگ مَر گئے ہیں یا مقتول ہیں اُن کو لوگ دفن کرنا چاہتے ہیں۔اِسی عرصہ میں روضہ کے اندر سے ایک آدمی نکلا اور اُس کے ہاتھ میں ایک سرکنڈہ تھا اور وہ اُس سرکنڈہ کو زمین پر مارتا تھا اور ہر یک کوکہتا تھا کہ تیری اِس جگہ قبر ہوگی۔تب وہ یہی کام کرتا کرتا میرے نزدیک آیا اور مجھ کو دکھلا کر اور میرے سامنے کھڑا ہوکر روضۂ شریفہ کے پاس کی زمین پر اُس نے اپنا سرکنڈہ مارا اور کہا کہ تیری اس جگہ قبر ہوگی۔تب آنکھ کھل گئی۔اور میں نے اپنے اجتہاد سے اس کی یہ تاویل کی کہ یہ معیّت معادی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو شخص فوت ہونے کے بعد روحانی طور پر کسی مقدس کےقریب ہوجائے تو گویا اس کی قبر اُس مقدس کی قبر کے قریب ہوگئی۔وَاللہُ اَعْلَمُ وَعِلْمُہٗ اَحْکَمُ۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۳۵۲) ۱۸۹۱ء ’’طلوع شمس کا جو مغرب کی طرف سے ہوگا ہم اُس پر بہرحال ایمان لاتے ہیں لیکن اِس عاجز پر جو ایک رؤیامیں ظاہر کیا گیا وہ یہ ہے جو مغرب کی طرف سے آفتاب کا چڑھنا یہ معنے رکھتا ہے کہ ممالک ِ مغربی جو قدیم سے ظلمت کفرو ضلالت میں ہیں آفتابِ صداقت سے منوّر کئے جائیں گے اور اُن کو اسلام سے حصّہ ملے گا۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۳۷۶،۳۷۷) ۱۸۹۱ء ’’میں نے دیکھا کہ میں شہر لنڈنؔ میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مُدلّل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں۔بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے جو چھوٹے چھوٹے درختوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور اُن کے رنگ سفید تھے اور شاید تیتر کے جسم کے موافق اُن کا جسم ہوگا۔سو مَیں نے اِس کی یہ تعبیر کی کہ اگرچہ مَیں نہیں مگر میری تحریریں ان لوگوں میں پھیلیں گی اور بہت سے راست باز انگریز صداقت کے شکار ہوجائیں گے۔‘‘ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳صفحہ ۳۷۷) ۱۸۹۱ء ’’اُس نے مجھے بھیجا اور میرے پر اپنے خاص الہام سے ظاہر کیا کہ مسیح ابن مریم فوت ہوچکا ہے چنانچہ اُس کا الہام یہ ہے کہ مسیح ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) چونکہ مدّت کی مقدار معلوم نہیں ہوسکی اس لئے اسے اس کے وقت ِ ذکر کی رعایت سے ۱۸۹۱ء کے نیچے ہی رکھا جاتا ہے۔