تذکرہ — Page 162
مسیح ابنِ مریم رسول اللہ فوت ہوچکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہوکر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے۔وَکَانَ وَعْدُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا۔اَنْتَ مَعِـیْ وَ اَنْتَ عَلَی الْـحَقِّ الْمُبِیْنِ۔اَنْتَ مُصِیْبٌ وَّمُعِیْنٌ لِّلْحَقِّ۔‘‘؎۱ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد۳ صفحہ ۴۰۲ ) ۱۸۹۱ء ’’خدائے تعالیٰ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ تُو مغلوب ہو کر یعنی بظاہر مغلوبوں کی طرح حقیر ہوکر پھر آخر غالب ہوجائے گا اورانجام تیرے لئے ہوگا اور ہم وہ تمام بوجھ تجھ سے اتار لیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی۔خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ تیری توحید تیری عظمت تیری کمالیت پھیلاوے خدا تعالیٰ تیرے چہرہ کو ظاہر کرے گااور تیرے سایہ کو لمبا کردے گا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچا ئی ظاہر کر دے گا۔عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا (یعنی اُس کو قبولیت بخشی جائے گی اور خلق کثیر کے دل اس کی طرف مائل کئے جائیں گے) اور خزائن اُس پر کھولے جائیں گے (یعنی خزائن معارف و حقائق کھولے جائیں گے کیونکہ آسمانی مال جو خدائے تعالیٰ کے خاص بندوں کو ملتا ہے جس کو وہ دنیا میں تقسیم کرتے ہیں دنیا کا درم و دینار نہیں بلکہ حکمت و معرفت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ نے اس کی طرف اشارہ کرکے فرمایا ہے کہ يُؤْتِی الْحِكْمَةَ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ يُّؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ اُوْتِـیَ خَيْرًا كَثِيْرًا۔۲؎خیر مال کوکہتے ہیں۔سو پاک مال حکمت ہی ہے جس کی طرف حدیث نبوی میں بھی اشارہ ہے کہ اِنَّـمَا اَنَـا قَاسِـمٌ وَاللّٰہُ ھُوَ الْمُعْطِیْ۔۳؎ یہی مال ہے جو مسیح موعود کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے ) یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔ہم عنقریب تم میں ہی اور تمہارے اردگرد نشان دکھلاویں گے ۱ (ترجمہ از مرتّب) اور اللہ کا وعدہ پورا ہوکر رہے گا۔تُو میرے ساتھ ہے اور تُو روشن حق پر قائم ہے۔تو راہِ صواب پر ہے اور حق کا مدد گار ہے۔۲ (ترجمہ از ناشر) وہ جسے چاہے حکمت عطا کرتا ہے اور جو بھی حکمت دیا جائے تو یقیناً وہ خیر کثیر دیا گیا۔(البقرۃ: ۲۷۰) ۳ (ترجمہ از ناشر) مَیں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور عطا کرنے والا تو اللہ ہے۔