تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 1089

تذکرہ — Page 140

(کرامات الصادقین ٹائٹل پیج آخری ورق۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۱۶۲) ۱۸۸۸ء ’’اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ء؎۲کی پیشگوئی کا انتظار کریں جس کے ساتھ یہ بھی الہام ہے۔وَ یَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ۔قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ وَمَآ اَنْتُمْ بِـمُعْـجِزِیْنَ۔زَوَّجْنَاکَھَا لَا مُبَدِّ۔لَ لِکَلِمَاتِیْ۔وَ اِنْ یَّـرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَ یَقُوْلُوْا سِـحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ۔اور تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ بات سچ ہے۔کہہ ہاں مجھے اپنے ربّ کی قسم ہے کہ یہ سچ ہے اور تم اس بات کو وقوع میں آنے سے روک نہیں سکتے۔ہم نے خود اس سے تیرا عقد نکاح؎۱ باندھ دیا ہے۔میری باتوں کو کوئی بدلا نہیں سکتا۔اور نشان دیکھ کر منہ پھیر لیں گے اور قبول نہیں کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی پکا فریب یا پکا جادو ہے۔‘‘ (اشتہار ۲۷؍دسمبر ۱۸۹۱ء ملحق بہ آسمانی فیصلہ۔روحانی خزائن جلد ۴صفحہ ۳۵۰) جولائی۱۸۸۸ء ’’الہام؎۲… فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ اس کی تفصیل مکرر توجہ سے یہ کھلی ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارے کُنبے اورقوم میں سے ایسے تمام لوگوں پر کہ جو اپنی بے دینی اور بدعتوں کی حمایت کی و جہ سے پیشگوئی کے مزاحم ہونا چاہیں گے اپنے قہری نشان نازل کرے گا اور ان سے لڑے گا اور انہیں انواع اقسام کے عذابوں میں مبتلا کردے گا اور وہ مصیبتیں اُن پر اتارے گاجن کی ہنوز اُنہیں خبر نہیں۔اُن میں سے ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو اِس عقوبت سے خالی رہے کیونکہ انہوں نے نہ کسی اور و جہ سے بلکہ بے دینی کی راہ سے مقابلہ کیا۔‘‘ (اشتہار ۱۵؍ جولائی ۱۸۸۸ء۔مجموعہ اشتہارات جلد ۱صفحہ۱۸۱ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) ۱۸۸۸ء ’’ہمیں اس؎۳ رشتہ کی درخواست کی کچھ ضرورت نہیں تھی، سب ضرورتوں کو خدا تعالیٰ نے پورا کردیا تھا۔بقیہ ترجمہ۔عاجزی کے ساتھ دُعا کی اور اس کی طرف سوال کا ہاتھ بڑھایا تو میرے ربّ نے الہام کیا اور فرمایا: میں انہیں اُن کے اپنے آدمیوں میں نشان دکھاؤں گا۔اور بتایا کہ میں اُن کی ایک لڑکی کو اُن کے حق میں نشان بناؤں گا اور اس کی تعیین کی اور فرمایا کہ وہ بیوہ ہوجائے گی اور اس کا خاوند اور اس کا باپ روزِ نکاح سے تین سال کے اندر اندر مر جائیں گے اور اُن کی موت کے بعد ہم اُسے تیری طرف لوٹائیں گے اور ان میں سے کوئی اسے بچا نہیں سکے گا اور فرمایا کہ ہم اُسے تیری طرف لَوٹائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی باتیں ٹل نہیں سکتیں تمہارا ربّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔۱ غالباً سہو کاتب ہے ’’سَتُجْعَلُ‘‘ ہونا چاہیے۔(شمس) ۲ سہو کتابت ہے۔جولائی ۱۸۸۸ء ہونا چاہیے۔ملاحظہ ہو آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۸۸۔(شمس)