تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 136 of 1089

تذکرہ — Page 136

َوْ یَکُوْنُوْنَ مِنَ الْمُتَنَبِّھِیْنَ وَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُـھُمْ فَـمَافَھِمُوْا وَمَاتَنَبَّھُوْا وَمَاکَانُوْا مِنَ الْـخَآئِفِیْنَ۔وَلَمَّا قَرُبَ وَقْتُ ظُھُوْرِ الْاٰیَۃِ اتَّفَقَ فِیْ تِلْکَ الْاَیَّامِ اَنَّ وَاحِدًا مِّنْ اَعَزِّ اَعِزَّتِـھِمُ الَّذِیْ کَانَ اسْـمُہٗ اَحْـمَدْ بِیْک اَرَادَ اَنْ یَّـمْلِکَ اَرْضَ اُخْتِہِ الَّتِیْ کَانَ بَعْلُھَا مَفْقُوْدَ الْـخَبَرِ مِنْ سِنِیْنَ۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ۵۶۶ تا ۵۷۰) (ب) ’’نامبردہ؎۱کی ایک ہمشیرہ ہمارے ایک چچا زاد بھائی غلام حسین نام کو بیاہی گئی تھی۔غلام حسین عرصہ پچیس سال سے کہیں چلا گیا ہے اور مفقود الخبر ہے۔اس کی زمین ملکیت جس کا ہمیں حق پہنچتا ہے نامبردہ کی ہمشیرہ کے نام کاغذات سرکاری میں درج کرادی گئی تھی۔اب حال کے بندوبست میں جو ضلع گورداسپورہ میں جاری ہے نامبردہ یعنی ہمارے خط کے مکتوب الیہ نے اپنی ہمشیرہ کی اجازت سے یہ چاہا کہ وہ زمین جو چار ہزار یا پانچ ہزار روپیہ کی قیمت کی ہے اپنے بیٹے محمد بیگ کے نام بطور ہبہ منتقل کرا دیں چنانچہ اُن کی ہمشیرہ کی طرف سے یہ ہبہ نامہ لکھا گیا۔چونکہ وہ ہبہ نامہ بجز ہماری رضامندی کے بے کار تھا اس لئے مکتوب الیہ نے بتمام تر عجز و انکسار ہماری طرف رجوع کیا تا ہم اس ہبہ پر راضی ہو کر اس ہبہ نامہ پر دستخط کردیں اور قریب تھا کہ دستخط کردیتے،لیکن یہ خیال آیا کہ جیسا کہ ایک مدّت سے بڑے بڑے کاموں میں ہماری عادت ہے جناب ِالٰہی میں استخارہ کرلینا چاہیے سو یہی جواب مکتوب الیہ کو دیا گیا۔پھر مکتوب الیہ کے متواتر اصرار سے استخارہ کیا گیا۔وہ بقیہ ترجمہ۔اُن کے گھروں پر، اُن کے چھوٹوں اور بڑوں پر، اُن کی عورتوں اور مَردوں پراور اُن کے اُس مہمان پر جو اُن کے گھر میں داخل ہوگا پڑے گی اور اُن تمام پر لعنت برسے گی سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائیں اور اچھے عمل کریں اور اُن سے اپنے تعلقات منقطع کرلیں اور اُن کی مجالس سے دُوری اختیار کریں۔پس وہی لوگ ہیں جن پر رحم کیا جائے گا۔یہ میرے ربّ کی اس وحی کا خلاصہ ہے جو اُس نے مجھ پر نازل کی۔پس میں نے اپنے پروردگار کے پیغامات اُن کو پہنچادیئے لیکن نہ تو وہ ڈرے اور نہ ہی انہوں نے تصدیق کی بلکہ سرکشی اور انکار میں بڑھتے گئے اور استہزاء میں دشمنانِ دین کا سا شیوہ اختیار کرلیا۔پس میرے ربّ نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ہم اُنہیں رُلانے والے نشانات دکھائیں گے اور اُن پر عجیب عجیب ہموم و امراض نازل کریں گے اور اُن کی معیشت تنگ کردیں گے اور اُن پر مصائب پر مصائب ڈالیں گے اور کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہوگا۔پس اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے ساتھ سلوک کیا۔غموں، قرضوں اور حاجات کے بوجھ سے ان کی پیٹھیں توڑ دیں اور ان پر قِسم قِسم کے مصائب اور آفات نازل کئے اور موت فوت کے دروازے ان پر کھول دیئے تاکہ وہ باز آئیں اور غفلت کو چھوڑ دیں لیکن ان کے دل سخت ہوگئے پس وہ نہ سمجھے اور نہ بیدار ہوئے اور نہ ہی اُنہیں کوئی خوف لاحق ہوا۔اور جب