تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 1089

تذکرہ — Page 112

دی تھی جو خداوند قادر مطلق ہے اُس ذاتِ بے چون و بے چگون کے آگے وہ کتاب قضاء وقدر پیش کی گئی اور اُس نے جو ایک حاکم کی شکل پر متمثّل تھا اپنے قلم کو سُرخی کی دوات میں ڈبو کر اوّل اُس سُرخی کو اِس عاجز کی طرف چھڑکا اور بقیہ سُرخی کا قلم کے مونہہ میں رہ گیا اُ س سے اُس کتاب پر دستخط۱؎کردیئے اور ساتھ ہی وہ حالت کشفیہ دُور ہوگئی اور آنکھ کھول کر جب خارج میں دیکھا تو کئی قطرات سُرخی کے تازہ بتازہ کپڑوں پر پڑے چنانچہ ایک صاحب عبداللہ نام جو سنور ریاست پٹیالہ کے رہنے والے تھے اور اُس وقت اس عاجز کے پاس نزدیک ہوکر بیٹھے ہوئے تھے دو یا تین قطرہ سُرخی کے اُن کی ٹوپی پر پڑے۔پس وہ سُرخی جو ایک امر کشفی تھا وجود خارجی پکڑ کر نظر آگئی۔اسی طرح اور کئی مکاشفات میں جن کا لکھنا موجب تطویل ہےمشاہدہ کیا گیا ہے۔‘‘ (سرمہ چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۱۷۹، ۱۸۰ حاشیہ) ۱۸۸۵ء ’’میں نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ کی عدالت میں ہوں اور منتظر ہوں کہ میرا مقدّمہ بھی ہو اتنے میں جواب ملا۔اِصْبِرْ سَنَفْرُغُ یَـا مِرْزَا ؎۲ پھر ایک بار دیکھا کہ کچہری میں گیا ہوں تو اللہ تعالیٰ ایک حاکم کی صورت پر عدالت کی کُرسی پر بیٹھا ہے اور ایک سر رشتہ دار کے ہاتھ میں ایک مثل ہے جو وہ پیش کررہا ہے۔حاکم نے مثل دیکھ کر کہا کہ مرزا حاضر ہے۔تو میں بقیہ حاشیہ۔کردیا جاوے۔کیونکہ حضرت اقدس اس و جہ سے اُسے دینے سے انکار کرتے تھے کہ میرے اور آپ کے بعد اس سے شرک پھیلے گا اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنا لیں گے۔اور اس کی پُوجا شروع ہوجائے گی۔غرض کہ بہت ردّ و قدح کے بعد دیا جو میرے پاس اس وقت تک موجود ہے اور سُرخی کے نشان اس وقت تک بلا کم و کاست بعینہٖ موجود ہیں۔یہ ہے سچی عینی شہادت! اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الْکَاذِ۔بِـیْنَ کی وعید کافی ہے میں خدا کو حاضر ناظر جان کر اور اُسی کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے سراسر سچ ہے۔اگر جھوٹ بولا ہو تو مجھ پر خدا کی لعنت! لعنت!! لعنت!!! مجھ پر خد اکا غضب! غضب!!غضب!!! عاجز عبداللہ سنوری‘‘ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’چونکہ عین آریہ صاحبوں کے مقابل پر یہ نشان ظاہر ہوا تھا اس لئے میرے خیال میں یہ پنڈت لیکھرام کے مارے جانے کی طرف اشارہ تھا اور طاعون کے وقوع کی طرف بھی اشارہ تھا۔‘‘ (نسیم دعوت۔روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ ۴۲۷ حاشیہ ) ۲ (ترجمہ از مرتّب) مرزا! ذرا ٹھہرو ہم ابھی فارغ ہوتے ہیں۔