تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 85 of 1089

تذکرہ — Page 85

ور پھر فرمایا کہ تیرا ربّ بڑا ہی قادر ہے۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور پھر فرمایا کہ ۹۷خدا کی نعمت کو یاد رکھ اور ۹۸میں نے تجھ کو تیرے وقت کے تمام عالَموں پر فضیلت دی۔اس جگہ جاننا چاہیے کہ یہ تفضیل طفیلی اور جزوی ہے۔یعنی جو شخص حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل طور پر متابعت کرتا ہے اُس کا مرتبہ خدا کے نزدیک اُس کے تمام ہم عصروں سے بر تر و اعلیٰ ہے۔پس حقیقی اور کلّی طور پر تمام فضیلتیں حضرت خاتم الانبیاء کو جناب احدیّت کی طرف سے ثابت ہیں اور دوسرے تمام لوگ اُس کی متابعت اور اُس کی محبت کے طفیل سے علیٰ قدر متابعت و محبت مراتب پاتے ہیں۔فَـمَا اَعْظَمَ شَاْنَ کَمَالِہٖ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ۔اب بعد اس کے بقیہ ترجمہ الہام یہ ہے۔۹۹اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے ربّ کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ پر راضی اور تو اُس پر راضی۔پھر میرے بندوں میں داخل ہو اور میری بہشت میں اندر آجا۔۱۰۰خدا نے تجھ پر احسان کیا اور ۱۰۱تیرے دوستوں سے نیکی کی ۱۰۲اور تجھ کو وہ علم بخشا جس کو تو خود بخود نہیں جان سکتا تھا۔۱۰۳اور اگر تو خدا کی نعمتوں کو گننا چاہے تو یہ تیرے لئے غیر ممکن ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۰۸تا ۶۲۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’پہلے اس؎۱ سے چند مرتبہ الہامی طور پر خدائے تعالیٰ نے اِس عاجز کی زبان پر یہ دعا جاری کی تھی کہ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُبَارَکًا حَیْثُـمَا کُنْتُ۔یعنی اے میرے ربّ مجھے ایسا مبارک کر کہ ہر جگہ کہ میں بودو باش کروں برکت میرے ساتھ رہے۔پھر خدا نے اپنے لطف و احسان سے وہی دعا کہ جو آپ ہی فرمائی تھی قبول فرمائی اور یہ عجیب بندہ نوازی ہے کہ اوّل آپ ہی الہامی طور پر زبان پر سوال جاری کرنا اور پھر یہ کہنا کہ یہ تیرا سوال منظور کیا گیا ہے۔‘‘ (براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۲۱ حاشیہ در حاشیہ نمبر۳) ۱۸۸۳ء ’’پھر ان الہامات کے بعد چند الہام فارسی اور اُردو میں اور ایک انگریزی میں ہوا…… اور وہ یہ ہے۔۱۔بخرام؎۲ کہ وقت تو نزدیک رسید و پائے محمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔۱ یعنی الہام جُعِلْتَ مُبَارَکًا مندرجہ صفحہ ۸۳۔(شمس) ۲ (ترجمہ) ’’اب ظہور کر اور نکل کہ تیرا وقت نزدیک آگیا اور اب وہ وقت آرہا ہے کہ محمدی گڑھے میں سے