تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 776 of 1089

تذکرہ — Page 776

گیا اور یاد رہے کہ مسجد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔‘‘ (برکاتِ خلافت۔انوار العلوم جلد ۲ صفحہ ۱۷۸ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن پاکستان) ۷۔حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔’’تھوڑے ہی دن ہوئے مَیں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ الہام دیکھا کہ۔’’بہت لوگ خیال کرتے ہیں کہ عورتیں ان کی کنیز کیں ہیں۔کنیزکیں نہیں بلکہ ان کی ساتھی ہیں۔‘‘ (الفضل جلد ۴نمبر۸۹مورخہ۱۲؍ مئی ۱۹۱۷ء صفحہ ۵مضمون ’’تعدد ازدواج اور جماعت ِ احمدیہ‘‘) ۸۔حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔’’ایک دفعہ جب حضرت مسیح موعود بیماری کے سخت دَورہ میں تہجد کے لئے اُٹھے اور غش کھاکر گِر گئے اور نماز نہ پڑھ سکے تو الہام ہوا کہ ’’ایسی حالت میں تہجد کی بجائے لیٹے لیٹے یہی۱؎ پڑھ لیا کرو۔‘‘ (ذکر ِ الٰہی۔انوار العلوم جلد ۳ صفحہ ۵۰۴ شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن پاکستان) ۹۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ الغاشیۃ آیت ۴ تا ۷ کا درس دیتے ہوئے فرمایا کہ۔’’ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک دفعہ طاعون کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔’’ابھی کیا ہے۔ابھی وہ دن آئیں گے جب کہ لوگ کہیں گے کہ لاہور بھی کوئی شہر۲؎ہوتا تھا۔‘‘ (ضمیمہ اخبار الفضل جلد ۲ نمبر ۵۰ مورخہ ۱۱؍ اکتوبر ۱۹۱۴ء صفحہ ۹، ۱۰) ۱ (نوٹ از ناشر) یعنی سُـبْحَانَ اللّٰہِ وَ بِـحَمْدِہٖ سُـبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ۔کہ اللہ پاک ہے اپنی حمد کے ساتھ۔اللہ پاک ہے بڑی عظمت والا ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) لاہور کی تباہی کی پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں شائع ہوچکی تھی وہ یہ ہے۔’’لاہور کی نسبت کہا جاتا تھا کہ اس کی سرزمین میں ایسے اجزاء ہیں کہ اس میں طاعونی کیڑے زندہ نہیں رہ سکتے لیکن وہاں بھی طاعون نے آن ڈیرہ ڈالا ہے۔ابھی لوگوں کو معلوم نہیں ہے لیکن سالہاسال کے بعد لوگ دیکھیں گے کہ کیا ہوگا۔کئی لوگ اور دیہات بالکل تباہ ہوجائیں گے۔دنیا سے اُن کا نام و نشان مِٹ جائے گا اور اُن کے آثار تک باقی نہ رہیں گے۔لیکن یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہ ہوگی۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۷، ۲۴؍ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۲) لیکن لاہور کے متعلق خاص لفظوں میں الہام، یہ نہ تو پہلے شائع ہوا ہے اور نہ ہی ان شہادتوں سے پتہ ملتا ہے جو اس