تذکرہ — Page 763
۶؍ جون۱۹۰۰ء ’’عِنْدَ ذٰلِکَ اَوْ شَکَ الرَّدٰی۔اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِ یْـرٌ۔ایسے وقت میں موت نزدیک ہوجاتی ہے۔یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۳۹ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۷؍ جون۱۹۰۰ء ’’اِنَّـا کَذٰ لِکَ نَـجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ۔جو ہماری طرف آتے ہیں ہم ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۴۰ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۱۸؍ جون۱۹۰۰ء پرسوں حضرت ؑ کو سر دَرد ہوا۔اِس اثناء میں ایک اشتہار کشفاً دکھایا گیا۔اس میں غزنویوں کا تھا۔آخر ایک سطر میں تھوڑا سا لکھا ہوا یاد رہا۔’’ مُنہ کالے‘‘ پھر الہام ہوا۔’’شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔‘‘۱؎ (از مکتوب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ بنام میر حامد شاہ صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳۷ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۱ ؍ مارچ ۱۹۳۴ءصفحہ ۱۰) نومبر۱۹۰۰ء ’’ مَیں کئی روز بہت بیمار رہا۔صحت خراب ہوگئی ہے۔تین روز ہوئے بشیر محمود کو سخت بخار ہوا۔فرمایا مَیں نے دُعا کرنے کا ارادہ کیا تو میرے دل میں آیا کہ آپ۲؎ (مجھے مخاطب کرکے فرمایا)بیمار ہیں اور مولوی نورالدین صاحب ؓ بھی بیمار ہیں۔پھر تینوں کے لئے دُعا کی۔الہام ہوا۔’’لِلْاَ تْبَاعِ وَالْاَوْلَادِ ‘‘ یعنی تیری اولاد اور تیرے پیروؤں کے حق میں تیری دُعا سنی گئی۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۳۸ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۱۹۰۰ء پیر سراج الحق صاحب نعمانی ؓ کا بیان ہے کہ ایک روز صبح کی نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ آج تھوڑی دیر ہوئی عجیب الہام ہوا کہ جو سمجھ میں نہیں آیا۔پہلے الہام۳؎ ہوا۔۱ (ترجمہ از الحکم) ’’منہ کالے ہوگئے۔‘‘ (یہ مخالفین کی طرف اشارہ ہے) (الحکم مورخہ ۲۱؍ مارچ ۱۹۳۴ء صفحہ ۱۰) ۲ یعنی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ۔(عبد اللطیف بہاولپوری) ۳ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) ’’اِس الہام میں دراصل تین پیشگوئیاں ہیں۔اوّل یہ کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی