تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 762 of 1089

تذکرہ — Page 762

۱۸؍ فروری۱۹۰۰ء مرزا خدا بخش صا۱؎حبؓ نے تحریر کیا کہ۔’’پانچ روز ہوئے حضرت اقدس ؑ نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی قتل ہوگیا ہے اور کل اس کا وقوعہ ہوگیا۔یہاں کے زمیندار باہم لڑپڑے اور ایک آدمی مارا گیا۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے حصّہ دوم صفحہ۱۲۰ حاشیہ از مکتوب مرزا خدا بخش صاحبؓ مورخہ ۲۳؍ فروری ۱۹۰۰ء۔مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء) مارچ۱۹۰۰ء حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓسیالکوٹی نے تحریر کیاکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا۔’’ کُلُّ الْعَقْلِ فِیْ لُبْسِ النَّظِیْفِ وَ اَکْلِ اللَّطِیْفِ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اِس کی بہت (لطیف) تفسیر فرمائی۔خلاصہ یہ ہے کہ اکلِ حلال اور لباسِ نظیف نشان ہے اِنسان کی دانش کا۔‘‘ ( اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے حصّہ دوم صفحہ ۴۴۴ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء) ۱۱؍ اپریل۱۹۰۰ء عزیز دین صاحبؓ ولد بھاگ صاحب ساکن قادیان نے بواسطہ عیدا صاحب سکنہ موضع کنڈیلا بیان کیا کہ (مسجد اقصٰے میں نمازِ عید ادا کرنے کے بعد ) حضور ؑ نے اُٹھ کر کاغذ پر نقشہ منار کھینچا اور فرمایا کہ ’’ مجھے خدا نے فرمایا ہے کہ اِس قسم کا مینار تم تیار کراؤ۔‘‘ (رجسٹر روایاتِ صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۷ صفحہ ۳۴۵) ۱۹۰۰ء شیخ نور احمد صاحب ڈاکٹر کا بیٹا سخت بیمار ہوگیا۔اُمّ الصبیان کا دَور ہ ہوگیا۔حالت یاس کی پیدا ہوگئی۔حضرت ؑ نے دُعا کی۔الہام ہوا۔’’ اَنَـا اللّٰہُ ذُو الْمِنَن۔‘‘۲؎ (چنانچہ ) لڑکا اچھا ہوگیا۔(ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۳۸ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۱۹۰۰ء فرمایا۔’’ تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ الہام ہوا۔’’ اِنَّـا لِلہِ ہمارا بھائی اِس دُنیا سے چل دیا‘‘ مصداق ذہن میں نہیں آیا۔اللہ تعالیٰ عزا پُرسی کرتا ہے اور اظہارِ ہمدردی کرتا ہے۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۳۹ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۱ (نوٹ از ناشر) ملازم حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خان صاحبؓ۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں خدا ہوں بہت احسانوں والا۔