تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 688 of 1089

تذکرہ — Page 688

سَلَامٌ۱؎ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔۴۔اَصْلِحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَانِیْ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۷) ۲۵؍ اپریل ۱۹۰۷ء ’’ عَسٰی اَنْ یَّـھْدِ یَــــنِیْ رَبِّیْ صِـرَاطًا مُّسْتَقِیْـمًا۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۶) ۲۷؍ اپریل ۱۹۰۷ء (الف) ’’ میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ بعد اس کے اور نشان ہیں جو قیامت کا نمونہ ہیں۔کاش لوگ سمجھتے اور آنے والے قہر سے بچ جاتے۔خدا نے فرمایا کہ ایک اور قیامت برپا ہوئی یعنی ہوگی۔۲۷؍اپریل ۱۹۰۷ء تھی جب یہ الہام ہوا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۹۵) ۱ (ترجمہ) ۳۔تم سب پر اس خدا کا سلام جو رحیم ہے۔(بدر مورخہ ۲۵ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۴ ) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۵ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۲۴ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳ میں یہاں لفظ ’’اِخْوَتِیْ‘‘ درج ہے نیز الہام ۳، ۴ کی تاریخ نزول ۲۳؍اپریل درج کرتے ہوئے اس کی وضاحت میں تحریر ہے کہ ’’ الہام کہ اَصْلِحْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ۔اِس کے یہ معنی ہیں کہ اے میرے خدا ! مجھ میں اور میرے بھائیوں میں اصلاح کر۔یہ الہام درحقیقت تتمہ ان الہامات کا معلوم ہوتا ہے جن میں خدا تعالیٰ نے اس مخالفت کا انجام بتلایا ہے اور وہ یہ الہام ہیں۔خَرُّوْا عَلَی الْاَذْقَانِ سُـجَّدًا۔رَبَّنَا اغْفِرْلَنَا اِنَّـا کُنَّا خَاطِئِیْنَ۔تَا للّٰہِ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللّٰہُ عَلَیْنَا وَاِنْ کُنَّا لَـخَاطِئِیْنَ۔لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔یَغْفِرُاللّٰہُ لَکُمْ وَ ھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔یعنی بعض سخت مخالفوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ بعض نشان دیکھ کر خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا! ہمارے گناہ بخش۔ہم خطا پر تھے اور مجھے مخاطب کرکے کہیں گے کہ بخدا خدا نے ہم پر تجھے فضیلت دی اور تجھے چُن لیا اور ہم غلطی پر تھے کہ تیری مخالفت کی۔اِس کا یہ جواب ہوگا کہ آج تم پر کوئی سرزنش نہیں۔خدا تمہیں بخش دے گا۔وہ اَرحم الراحمین ہے۔یہ اُس وقت ہوگا کہ جب بڑے بڑے نشان ظاہر ہوں گے۔آخر سعید لوگوں کے دل کھل جائیں گے اور وہ دل میں کہیں گے کہ کیا کوئی سچا مسیح اس سے زیادہ نشان دکھلاسکتا ہے یا اِس سے زیادہ اس کی نصرت اور تائید ہوسکتی تھی۔تب یک دفعہ غیب سے قبول کے لئے ان میں طاقت پیدا ہوجائے گی اور وہ حق کو قبول کرلیں گے۔‘‘ ۳ (ترجمہ از ناشر) قریب ہے کہ میرا ربّ مجھے صراطِ مستقیم کی آخری منزل تک پہنچائے۔