تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 1089

تذکرہ — Page 46

وَمَا اَدْرَاکَ مَا اَصْـحَابُ الصُّفَّۃِ تَـرٰی اَعْیُنَـہُمْ تَفِیْضُ مِن الدَّمْعِ۔یُصَلُّوْنَ عَلَیْکَ۔۱۰۰رَبَّنَا اِنَّنَا سَـمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْـمَانِ وَ دَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَ سِـرَاجًا مُّنِیْرًا۔۱۰۱ اَمْلُوْا۔(براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۶۵ تا ۲۶۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱ ) بقیہ ترجمہ۔اور تُو کیا جانتا ہے کہ وہ کس شان اور کس ایمان کے لوگ ہوں گے جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں۔وہ بہت قوی الایمان ہوں گے۔تو دیکھے گا کہ ان کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوں گے۔وہ تیرے پر درود۱؎بھیجیں گے ۱۰۰اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سنی جو ایمان کی طرف بلاتا ہے اور ایک چمکتا ہوا چراغ ہے۔سو ہم ایمان لائے۔۱۰۱ان تمام پیش گوئیوں کو تم لکھ لو کہ وقت پر واقع ہوں گی۔۱۸۸۲ء ’’براہین کے صفحہ ۲۴۲ ۲؎میں مرقوم ہے… وَلَا تُصَعِّرْ لِـخَلْقِ اللّٰہِ وَلَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ… اور اس کے بعد الہام ہوا۔وَ وَسِّعْ مَکَا نَکَ یعنی اپنے مکان کو وسیع کرلے بقیہ حاشیہ۔اور میری ہمسایگی کے لئے قادیاں میں آکر بود و باش کریں گے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۶۲، ۲۶۳) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’انسانی عادت اور اسلامی فطرت میں داخل ہے کہ مومن کسی ذوق کے وقت اور کسی مشاہدہ کرشمۂ قدرت کے وقت درود بھیجتا ہے۔سو اس یُصَلُّوْنَ عَلَیکَ کے فقرہ میں اشارہ ہے کہ وہ لوگ جو ہر دم پاس رہیں گے وہ کئی قسم کے نشان دیکھتے رہیں گے۔پس ان نشانوں کی تاثیر سے بسا اوقات ان کے آنسو جاری ہوجائیں گے اور شدّتِ ذوق اور رقّت سے بےاختیار درود اُن کے منہ سے نکلے گا چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آرہا ہے اور یہ پیش گوئی بار بار ظہور میں آرہی ہے۔‘‘ (اربعین نمبر۲۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۵۰ حاشیہ) ۲ براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۶۸ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۱ (ناشر)