تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 45 of 1089

تذکرہ — Page 45

ُنْ فِی الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ اَوْ عَابِـرُ سَبِیْلٍ۔۸۸۔وَکُنْ مِّنَ الصَّالـِحِیْنَ الصِّدِّیْقِیْنَ۔۸۹۔وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ صَلِّ عَلٰی مُـحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُـحَمَّدٍ۔۹۰۔اَلصَّلٰوۃُ ھُوَ الْمُرَبِّیْ۔۹۱۔اِنِّیْ رَافِعُکَ اِلَیَّ۔۹۲۔وَاَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَـحَبَّۃً مِّنِّیْ۔۹۳۔لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔۹۴۔فَاکْتُبْ وَلْیُطْبَعْ وَلْیُرْسَلْ فِی الْاَرضِ۔۹۵۔خُذُوا التَّوْحِیْدَ التَّوْحِیْدَ یَـا اَبْنَآءَ الْفَارِسِ۔۹۶۔وَبَشِّـرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّـھِمْ۔۹۷۔وَاتْلُ عَلَیْـھِمْ مَّا اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ۔۹۸۔وَلَا تُصَعِّرْ لـِخَلْقِ اللّٰہِ وَ لَا تَسْئَمْ مِّنَ النَّاسِ۔۹۹۔اَصْـحَابُ الصُّفَّۃِ بقیہ حاشیہ۔ہوگا۔؎۱ ۹۲ اور اپنی محبت تیرے پر ڈال دی۔۹۳وہ خدا حقیقی معبود ہے۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں؎۲۔۹۵توحید کو پکڑو۔توحید کو پکڑو۔اے فارس کے بیٹو۔۹۶ اور تُو ان لوگوں کو جو ایمان لائے یہ خوشخبری سنا کہ ان کا قدم خدا کے نزدیک صدق کا قدم ہے۔۹۷سو ان کو وہ وحی سنا دے جو تیری طرف تیرے ربّ سے ہوئی۔۹۸اور یاد رکھ کہ وہ زمانہ آتاہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے۔سو تیرے پر واجب ہے کہ تو ان سے بدخُلقی نہ کرے اور تجھے لازم ہے کہ ان کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔۹۹اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کرکے تیرے حجروں میں آکر آباد ہوں گے۔وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب الصُفّہ؎۳ کہلاتے ہیں بقیہ حاشیہ۔اوڑھنے والے اُٹھ اور (لوگوں کو آنے والے خطرات سے) ڈرا اور اپنے ربّ کی بڑائی بیان کر۔۱ (ترجمہ از مرتّب) ۸۷تو دنیا میں ایسے طور پر رہ کہ گویا تو ایک غریب الوطن بلکہ ایک راہرو ہے۔۸۸اور صالح اور راستباز لوگوں میں سے ہو۔۸۹اور نیکی کی تحریک کر اور بری باتوں سے روک اور محمدؐ پر اور محمدؐ کی آل پر درود بھیج۔۹۰ درود ہی تربیت کا ذریعہ ہے۔۹۱میں تجھے رفعت دے کر اپنا خاص قرب بخشنے والا ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۹۴پس تُو لکھ اور اسے چھپوایا جائے اور تمام دُنیا میں بھیجا جائے۔۳ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’خدا تعالیٰ نے انہی اصحاب الصُفّہ کو تمام جماعت میں سے پسند کیا ہے اورجو شخص سب کچھ چھوڑ کر اس جگہ آکر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ کہ یہ تمنّا دل میں نہیں رکھتا اُس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ ایک پیش گوئی عظیم الشان ہے اور ان لوگوں کی عظمت ظاہر کرتی ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے کہ وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑیں گے