تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 660 of 1089

تذکرہ — Page 660

۷؍ فروری۱۹۰۷ء ۱۔’’الہام۔اَلْعِیْدُ الْاٰخَرُ تَنَالُ مِنْہُ فَتْحًا عَـظِیْـمًا۔‘‘۱؎ ۲۔اسی تاریخ یعنی ۷؍ فروری۱۹۰۷ء کو میں نے خواب۲؎ میں دیکھا کہ قبر جیسا ایک گڑھا ہے اس میں ایک سانپ ہے پھر ایسا وہم ہوا کہ گویا سانپ چلا گیا ہے پھر مبارک نے اس گڑھے میں قدم رکھا تو یہ معلوم ہوا کہ سانپ اسی میں ہے۔پھر سانپ باہر کو دوڑنے لگا تب والدہ محمود نے چاقو سے اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی پھر بعد اس کے مَیں نے اس کی دوسری ٹانگ کاٹ دی اور وہ سانپ کچھووں کی طرح سے قدم بقدم …۳؎ تو ڈاکٹر عبد اللہ مسکراتا ہوا آیا اور کہا کہ تار آئی ہے کہ دو پُل ٹوٹ گئے ہیں۔خواب میں مَیں نے کہا کہ کون کون سے۔اس نے جواب دیا کہ یہ تو معلوم نہیں پر وہ دونوں پُل پنجاب کے ہیں۔پھر آنکھ کھل گئی۔۱ (ترجمہ) ایک اَور عید ہے جس میں تُو ایک بڑی فتح پائے گا۔(بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ءصفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ خواب ۹؍فروری ۱۹۰۷ء کے حوالہ سےبایں الفاظ درج ہے۔’’ اور میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک گڑھاقبر کے اندازہ کی مانند ہے اور ہمیں معلوم ہوا کہ اُس میں ایک سانپ ہے اور پھر ایسا خیال آیا کہ وہ سانپ گڑھے میں سے نکل کر کسی طرف بھاگ گیا ہے۔اِس خیال کے بعد مبارک احمد نے اس گڑھے میں قدم رکھا تو اس کے قدم رکھنے کے وقت محسوس ہوا کہ وہ سانپ ابھی گڑھے میں ہے اور اس سانپ نے حرکت کی اور پھر ساتھ ہی اس سانپ نے باہر کی طرف نکلنا شروع کیا۔جب باہر کی طرف بھاگنے لگا تب ایسا دکھائی دیا کہ گویا وہ ایک اژدہا ہے اور اس کی دو ٹانگیں ہیں۔ایک ٹانگ تو کسی قدر پتلی ہے اور دوسری ٹانگ اِس قدر موٹی ہے جیسی کسی بھینس کی ٹانگ یا ہاتھی کی ٹانگ۔مبارک احمد کی والدہ اُس سانپ کی طرف دوڑی اور ایک چاقو سے اس کی پتلی ٹانگ کاٹ دی۔پھر وہ اژدہا مکان کی دوسری طرف آگیا اور مَیں اُس کی طرف گیا اور میرے ہاتھ میں ایک چاقو تھا مَیں نے بڑی ٹانگ اس اژدہا کی اُس چاقو سے کاٹ دی۔بہت آسانی سے کٹ گئی جیسے مُولی یا گاجر اور بہت کچھ پانی زہریلا اس سانپ کا چاقو کے ساتھ آلُودہ رہا۔مَیں نے اس چاقو کو ایک آگ میں جو قریب ہی سُلگ رہی تھی، ڈال دیا اور اُس سے بڑی بدبو آئی۔مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کے زہر سے مجھے کوئی نقصان نہ پہنچے مگر کوئی نقصان نہ پہنچا بہرحال اس اژدہا کا کام تمام کردیا اور پھر ہم تینوں اس مکان سے جب باہر آئے تو ڈاکٹر عبداللہ سامنے آتے نظر آئے۔جب قریب پہنچے تو مُسکرا کر مجھے کہنے لگے کہ تار آئی ہے کہ دو پُل ٹوٹ گئے۔مَیں نے دریافت کیا کہ کون کون سا پُل اور کس کس مقام کا پُل ٹوٹا ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ دو پُل جو ٹوٹے ہیں وہ پنجاب کے پُل ہیں۔پھر اس کے بعد الہام ہوا۔اَلْعِیْدُ الْاٰخَرُ تَنَالُ مِنْہُ فَتْحًا عَظِیْـمًا۔زندگی بآرام ہوجانا پہلی زندگی سے۔‘‘ ۳ (نوٹ از ناشر) یہ حصہ پڑھا نہیں جاسکا۔