تذکرہ — Page 44
اللّٰہُ مِنْ عِنْدِہٖ۔۷۲۔یَنْصُرُکَ رِجَالٌ نُّوْحِیْ اِلَیْـھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ۔۷۳۔لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہِ۔۷۴۔اِنَّـا فَتَحْنَا لَکً فَتْحًا مُّبِیْنًا۔۷۵۔فَتْحُ الْوَلِیِّ فَتْحٌ وَّقَرَّبْنَاہُ نَـجِیًّا۔۷۶ اَشْـجَعُ النَّاسِ۔۷۷۔وَلَوْ کَانَ الْاِیْـمَانُ مُعَلَّقًا بِـالثُّـرَیَّـا لَنَا لَہٗ۔۷۸۔اَنَارَ اللّٰہُ بُرْھَانَہٗ۔۷۹۔یَـا اَحْـمَدُ فَاضَتِ الرَّحْـمَۃُ عَلٰی شَفَتَیْکَ۔۸۰۔اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔۸۱۔یَـرْفَعُ اللّٰہُ ذِکْرَکَ وَیُتِمُّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ۔۸۲۔وَ وَجَدَکَ ضَالًّافَھَدٰی۔۸۳۔وَ نَظَرْنَـا اِلَیْکَ وَ قُلْنَا یَا نَـارُ کُوْنِیْ بَـرْدًا وَّ سَلَامًا عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ۔۸۴۔خَزَائِنُ رَحْـمَۃِ رَبِّکَ۔۸۵۔یَـا اَیُّـھَا الْمُدَّ۔ثِّرُ قُـمْ فَاَنْذِرْ وَ رَبَّکَ فَکَبِّرْ۔۸۶۔یَـا اَحْـمَدُ یَتِمُّ اسْـمُکَ وَ لَا یَتِمُّ اسْـمِیْ؎۱ بقیہ ترجمہ۔کرے گا۔۷۲تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔۷۳خدا کی باتوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔۷۴ہم ایک کھلی کھلی فتح تجھ کو عطا کریں گے۔۷۵ولی کی فتح ایک بڑی فتح ہے اور ہم نے اس کو ایک ایسا قرب بخشا کہ ہمراز اپنا بنادیا۔۷۶ وہ تمام لوگوں سے زیادہ بہادر ہے۔۷۷اور اگر ایمان ثریّا سے معلّق ہوتا تو وہیں سے جاکر اس کو لے لیتا۔۷۸خدا اس کی حجّت روشن کرے گا۔۷۹اے احمد تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔۸۰تُو میری آنکھوں کے سامنے ہے۔۸۱خدا تیرا ذکر بلند کرے گا اور اپنی نعمت دنیا اور آخرت میں تیرے پر پوری کرے گا۔۲؎ ۸۳اور ہم نے تیری طرف نظر کی اور کہا کہ اے آگ جو فتنہ کی آگ قوم کی طرف سے ہے اِس ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا۔۳؎ ۸۶اے احمدتیرا نام پورا ہوجائے گا اور میرا نام پورا نہیں ۱۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔(الف)’’اَیْ اَنْتَ فَانٍ۔فَیَنْقَطِعُ تَـحْمِیْدُ کَ۔وَلَایَنْتَـہِیْ مَـحَامِدُ اللّٰہِ۔فَاِنَّـھَا لَاتُعَدُّ وَلَا تُـحْصٰی۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد۱ صفحہ ۲۶۷ بقیہ حاشیہ درحاشیہ نمبر۱) (ترجمہ از مرتّب) یعنی تم چونکہ فانی ہو۔اس لئے تمہاری تحمید محدود ہے مگر اللہ تعالیٰ کے محامد غیر متناہی ہیں کیونکہ وہ بےشمار اور بے انتہاء ہیں۔(ب) ’’وَ اِذَا اَنَـارَالنَّاسَ بِنُوْرِ رَبِّہٖ اَوْ بَلَّغَ الْاَمْرَ بِقَدْرِ الْکِفَایَۃِ فَـحِیْنَئِذٍ یَّتِمُّ اسْـمُہٗ وَ یَدْعُوْہُ رَبُّہٗ وَیُرْفَعُ رُوْحُہٗ اِلٰی نُقْطَتِہِ النَّفْسِیَّۃِ۔(ترجمہ) اور جب خلقت کو اپنے ربّ کے نور کے ساتھ روشن کر چکا یا امر تبلیغ کو بقدر کفایت پورا کردیا پس اس وقت اس کا نام پورا ہوجاتا ہے اور اس کا ربّ اس کو بُلاتا ہے اور اس کی روح اس کے نقطۂ نفسی کی طرف اُٹھائی جاتی ہے۔‘‘ (خطبہ الہامیہ۔روحانی خزائن جلد ۱۶ صفحہ ۴۱) ۲ (ترجمہ از مرتّب) ۸۲اور اس نے تجھے طالبِ ہدایت پایا پس اس نے تیری راہنمائی کی۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ۸۴ تیرے ربّ کی رحمت کے (ہر قسم کے) خزانے (تجھے دیئے جائیں گے)۔۸۵ اے کپڑا