تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 634 of 1089

تذکرہ — Page 634

۳۔وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔۴۔سَاُکْرِمُکَ اِکْـرَامًا عَـجَبًا۔وَ اُلْقِیْ بِہِ الرُّعْبَ الْعَظِیْمَ۔۵۔یَـاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔یَـاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔‘‘۱؎ (بدر جلد ۲ نمبر ۳۳ مورخہ ۱۶ ؍ اگست ۱۹۰۶صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۹ مورخہ ۱۷ ؍ اگست۱۹۰۶صفحہ ۱) ۱۹؍اگست ۱۹۰۶ء ’’ اس تاریخ میں خواب میں دیکھا کہ ایک نہایت چمکتا ہوا ٹکڑا سونے کا سہ پہلو تھا میری بیوی نے مجھ کو دیا پھر آنکھ کھل گئی۔میں ڈرا کہ سونے میں غم اور کوئی مکروہ امر ہوتا ہے پھر غنودگی ہو کر یہ الہام ہوا۔اِنَّ ھٰذَا إِمْرَأَ ۃٌ جَـمِیْلَۃٌ۔۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹۳) ۲۰؍اگست ۱۹۰۶ء ’’ صبر کر خدا تیرے دشمن کو ہلاک کرے گا۔نُصِـرْتَ بِـالرُّعْـبِ وَقَالُوْا لَاتَ حِیْنَ مَنَاصٍ۔۳؎ اِذَا بَطَشْتُمْ بَطَشْتُمْ جَبَّارِیْنَ۔‘‘ ۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۹۲) ۱ (ترجمہ) ۳۔ہر ایک چغل خور، عیب گیر پر سخت لعنت ہے۔۴۔مَیں تجھے ایک عجیب طور پر عزت دوں گا اور اس کے ساتھ سے دُنیا پر بڑا رُعب ڈالوں گا۔۵۔لوگ دُور دراز سے تیرے پاس آئیں گے اور دُور دُور سے ہدیئے آئیں گے۔(بدر مورخہ ۱۶؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۲ (ترجمہ از ناشر) یقیناً یہ ایک خوبصورت عورت ہے۔۳ (ترجمہ) رعب کے ساتھ تیری نصرت کی گئی اور مخالفوں نے کہا اب کوئی جائے پناہ نہیں۔(بدر مورخہ ۲۳؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۴ (ترجمہ از مرتّب ) جب تم کسی کو پکڑتے ہو تو جابر ہوکر پکڑتے ہو۔(نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۳؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۲۴؍اگست ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں ان الہامات کی تاریخ ۲۱؍ اگست درج ہے نیز تحریر ہے۔۱۔’’شب گذشتہ کو مَیں نے خواب میں دیکھا کہ اِس قدر زنبور ہیں ( جن سے مراد کمینہ دشمن ہیں) کہ تمام سطح زمین اُن سے پُر ہے اور ٹڈی دَل سے زیادہ ان کی کثرت ہے۔اِس قدر ہیں کہ زمین کو قریباً ڈھانک دیا ہے اور تھوڑے ان میں سے پَرواز بھی کررہے ہیں جو نیش زنی کا ارادہ رکھتے ہیں مگر نامُراد رہے اور مَیں اپنے لڑکوں شریف اور بشیر کو کہتا ہوں کہ قرآن شریف کی یہ آیت پڑھو اور بدن پر پھونک لو کچھ نقصان نہیں کریں گے اور وہ آیت