تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 622 of 1089

تذکرہ — Page 622

مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ۔خدا کی۱؎ فِیلنگ۲؎ اور خدا کی مُہر نے کِتنا بڑا کام کِیا۔تعلیم دی اور بہت برکتوں والا ہے جس نے تعلیم پائی۔خدا نے وقت کی ضرورت محسوس کی اور اس کے محسوس کرنے اور نبوّت کی مُہر نے جس میں بشدّت قوّت کا فیضان ہے بڑا کام کیا یعنی تیرے مبعو ث ہونے کے دو باعث ہیں (۱) خدا کا ضرورت کو محسوس کرنا اور (۲) آنحضرت ؐ کی مُہر کا فیضان۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ کُلِّ مَنْ اَحَبَّکَ۔تیرے لئے میرا نام چمکا۔رُوحانی مَیں تیرے ساتھ ہوں او ر تیرے اہل کے ساتھ اور ہر ایک کے ساتھ جو تجھ سے پیار کرتا ہے۔تیرے لئے میرے نام نے اپنی چمک دکھلائی۔عالَم تیرے پر کھولا گیا۔فَبَصَـرُکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ۔اَطَالَ اللّٰہُ بَقَآءَکَ۔اسّی یا اس پر روحانی عالَم تیرے پر کھولا گیا۔پس آج نظر تیری تیز ہے۔خدا تیری عمر دراز کرے گا۔اسّی برس یا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ وحیِ الٰہی کہ خدا کی فِیلنگ اور خدا کی مُہر نے کتنا بڑا کام کیا۔اِس کے یہ معنے ہیں کہ خدا نے اِس زمانہ میں محسوس کیا کہ یہ ایسا فاسد زمانہ آگیا ہے جس میں ایک عظیم الشان مصلح کی ضرورت ہے اور خدا کی مُہر نے یہ کام کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکی پَیروی کرنے والا اِس درجہ کو پہنچا کہ ایک پہلو سے وہ اُمّتی ہے اور ایک پہلو سے نبی۔کیونکہ اللہ جَلَّشانہ ٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب ِ خاتم بنایا۔یعنی آپ کو افاضۂ کمال کے لئے مُہر دی جو کسی اَور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی۔اِسی وجہ سے آپؐ کا نام خاتم النّبیین ٹھیرا۔یعنی آپ کی پیروی کمالاتِ نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوتِ قدسیہ کسی اَور نبی کو نہیں ملی۔یہی معنے اِس حدیث کے ہیں کہ عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَاَ۔نْبِیَآءِ بَنِیْٓ اِسْـرَآءِیْلَ یعنی میری اُمّت کے علماء بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہوں گے اور بنی اسرائیل میں اگرچہ بہت نبی آئے مگر ان کی نبوت موسیٰ کی پیروی کا نتیجہ نہ تھا بلکہ وہ نبوّتیں براہِ راست خدا کی ایک موہبت تھیں حضرت موسٰی کی پیروی کا اس میں ایک ذرّہ کچھ دخل نہ تھا۔اسی وجہ سے میری طرح ان کا یہ نام نہ ہوا کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے اُمّتی، بلکہ وہ انبیاء مستقل نبی کہلائے اور براہِ راست ان کو منصب ِ نبوت ملا اور ان کو چھوڑ کر جب اَور بنی اسرائیل کا حال دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں کو رُشد اور صلاح اور تقویٰ سے بہت ہی کم حصہ ملا تھا اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی اُمّت اولیاء اللہ کے وجود سے عموماً محروم رہی تھی اور کوئی شاذو نادر اُن میں ہوا تو وہ حکم معدوم کا رکھتا ہے۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۹ تا ۱۰۱حاشیہ) ۲ Feeling