تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 612 of 1089

تذکرہ — Page 612

بَعَثَ اللّٰہُ۔قُلْ اِنَّـمَآ اَنَـا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰی اِلَیَّ اَنَّـمَا اِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ۔جس کو خدا نے مبعوث فرمایا؟ ان کو کہہ کہ مَیں تو ایک انسان ہوں۔میری طرف یہ وحی ہوئی ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے۔وَ الْـخَیْرُ کُلُّہٗ فِی الْقُرْاٰنِ۔لَا یَـمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ۔قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ اور تمام بھلائی اور نیکی قرآن میں ہے کسی دوسری کتاب میں نہیں۔اس کے اسرار تک وہی پہنچتے ہیں جو پاک دل ہیں۔کہہ ہدایت ھُوَ الْھُدٰی۔وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُـزِّلَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ قَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ۔۱؎ دراصل خدا کی ہدایت ہی ہے۔اور کہیں گے کہ یہ وحیِ الٰہی کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہیں ہوئی جو دو شہروں میں سے کسی ایک شہر کا باشندہ وَ قَالُوْا اَنّٰی لَکَ ھٰذَا۔اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُـمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ۔یَنْظُرُوْنَ ہے۔اور کہیں گے کہ تجھے یہ مرتبہ کہاں سے حاصل ہوگیا۔یہ تو ایک مَکر ہے جو تم لوگوں نے مل کر بنایا۔یہ لوگ تیری طرف دیکھتے ہیں اِلَیْکَ وَھُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُـحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُـحْبِبْکُمُ اللّٰہُ۔مگر تُو انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ان کو کہہ کہ اگر تم خدا سے محبّت کرتے ہو تو آؤ میری پَیروی کرو تا خدا بھی تم سے محبّت کرے۔عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّـرْحَـمَکُمْ۔وَاِنْ عُدْ تُّمْ عُدْ نَا۔وَ جَعَلْنَا جَھَنَّمَ لِلْکَافِرِیْنَ خدا آیا ہے تا تم پر رحم کرے اور اگر تم پھر شرارت کی طرف عود کروگے تو ہم بھی عذاب دینے کی طرف عود کریں گے اور ہم نے جہنّم کو حَصِیْرًا۔وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْـمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ۔قُلِ اعْـمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ کافروں کے لئے قید خانہ بنایا ہے۔اور ہم نے تجھے تمام دُنیا پر رحمت کرنے کے لئے بھیجا ہے ان کو کہہ کہ تم اپنے مکانوں پر اپنے طور پر عمل کرو اِنِّیْ عَامِلٌ۔فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔لَا یُقْبَلُ عَـمَلٌ مِّثْقَالَ ذَ۔رَّۃٍ مِّنْ اور مَیں اپنے طور پر عمل کررہا ہوں پھر تھوڑی دیر کے بعد تم دیکھ لو گے کہ کس کی خدا مدد کرتا ہے کوئی عمل بغیر تقویٰ کے ایک ذرّہ غَیْرِ التَّقْوٰی۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔قبول نہیں ہوسکتا۔خدا ان کے ساتھ ہوتا ہے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یعنی اِس شخص کو مہدی موعود ہونے کا دعویٰ ہے جو پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں قادیان کا رہنے والا ہے۔کیوں مہدی معہود مکہ یا مدینہ میں مبعوث نہ ہوا جو سرزمینِ اسلام ہے۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۵ حاشیہ)