تذکرہ — Page 587
اندر ہے باہر پھینک دے گی یعنی اکثر مقامات میں ایسا ہوگا تو ہر جگہ اُس دن وہ انسان جو طبعی اور طبقات الارض کے علم پر ناز کرتے ہیں کہیں گے کہ آج زمین کو یہ کیا ہوگیا۔یہ بات تو ہمارے علوم سے باہر چلی گئی۔اس دن زمین اپنا قصہ بیان کرے گی کہ اس کو کیا ہوا اور کس سبب سے اس پر ایسی آفت آئی جو غیر معمولی اور خارق عادت۔کیونکہ میرا خدا اس دن اپنے رسول کو زمین کا ترجمان بنائے گا اور اس رسول کی طرف وحی کرے گا کہ یہ غیر معمولی آفت اس وجہ سے آئی۔اور خدا فرماتا ہے کہ یہ سب نشان میں تیرے لئے ظاہر کروں گا۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۶۹، ۲۶۸، ۲۶۷،۲۶۶) ۱۸؍ مئی۱۹۰۶ء (الف) ’’رؤیا میں دیکھا کہ کوئی شخص طاعون کے متعلق کہتا ہے اَب تک پیچھا نہیں چھوڑتی‘‘ (بدر جلد ۲ نمبر۲۱ مورخہ۲۴ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر۱۸ مورخہ۲۴؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱) (ب) ’’میرے ایک صادق دوست اور نہایت مخلص جن کا نام ہے سیٹھ عبدالرحمٰن تاجر مدراس اُن کی طرف سے ایک تار آیا کہ وہ کاربنکل یعنی سرطان کی بیماری سے جو ایک مہلک پھوڑا ہوتا ہے بیمار ہیں۔چونکہ سیٹھ صاحب موصوف اوّل درجہ کے مخلصین میں سے ہیں اِس لئے اُن کی بیماری کی وجہ سے بڑا فکر اور بڑا تردّد ہوا قریباً نَو بجے دن کا وقت تھا کہ مَیں غم اور فکر میں بیٹھا ہوا تھا کہ یک دفعہ غنودگی ہوکر میرا سر نیچے کی طرف جھک گیا اور معاً خدائے عزّوجلّ کی طرف سے وحی ہوئی کہ آثارِ زندگی۲؎ ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱ اور بدر مورخہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ میں یہ جملہ یوں ہے۔’’یہ سب نشان تیرے لئے زمین پر ظاہر کئے جائیں گے تا زمین کے لوگ تجھے شناخت کرلیں۔‘‘ ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۲۴ ؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ۲۴؍ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ۱ میں اس الہام کی تاریخ ۱۸؍مئی ۱۹۰۶ء درج ہے نیز تحریر ہے کہ الہام ہوا۔’’زندگی کے آثار‘‘ اِس وحیِ الٰہی کے تھوڑی دیر کے بعد سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب کا مدراس سے تار آیا جس میں سیٹھ صاحب کی بیماری میں افاقہ کی خبر تھی۔اِس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔پہلے خدا کا تار پہنچا اور پیچھے بندوں کا۔اِس الہامی خبر سے صرف یہ سمجھا گیا کہ جس مضمون کا تار روانہ کیا گیا تھا اُسی مضمون سے خدا نے اطلاع دے دی۔‘‘