تذکرہ — Page 576
(ب) ’’۱۔اِنِّیْ مَعَ الْاَکْرَامِ۔۲۔لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ۔۳۔لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاکَ۔‘‘۱؎ واضح رہے کہ یہ لفظ متعین الظاہر اور مطلق المعنیٰ ہیں۔اصل حقیقت یہ ہے کہ جب انسان تبتّل اور انقطاع میں کمال درجہ تک پہنچ جاتا ہے اور تعلق باللہ کے مراتب میں سے کوئی مرتبہ باقی نہیں رہتا تو اس دعا کے لائق ہوجاتا ہے۔۴۔یہ میری کتاب ہے اس کو کوئی ہاتھ نہ لگاوے مگر وہی لوگ جو میرے خدمت گار ہیں۔۵۔اَللّٰہُ یُعْلِیْنَا وَلَا نُعْلٰی۔۲؎ غالب آنے کا فیصلہ۔۶۔اس کا وقت آگیا ہے نوکر رکھا جاوے۔۷۔کلیسیا کی طاقت کا نسخہ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۷۹، ۲۷۸، ۲۷۷) (ج) ’’ یَـاْتِیْکَ الْفَرَجُ ‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۶۴ بدر جلد ۲ نمبر ۱۵ مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۱۲ مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ ) (ترجمہ) کشائش تجھے ملے گی۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۰) ۸؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’ رَبِّ اَرِ۔نِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔‘‘۴؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۳۰۶) ۹؍ اپریل۱۹۰۶ء ’’ ۱۔رَبِّ۵؎ اَرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔۲۔یُـرِیْکُمُ اللّٰہُ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔۶؎ ۱ (ترجمہ ازناشر) ۱۔تحقیق مَیں بزرگوں کے ساتھ ہوں۔۲۔اگر تو نہ ہوتا تو مَیں آسمان کو پیدا نہ کرتا۔۳۔اگر تو نہ ہوتا تو مَیں آسمان کو پیدا نہ کرتا۔۲ (ترجمہ) ۵۔اللہ تعالیٰ ہمیں اُونچا کرے گا ہم نیچے نہیں کئے جائیں گے۔(بدر مورخہ۱۰ مئی ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۳ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) الحکم میں اس الہام کی تاریخ ۷؍ اپریل لکھی ہے۔۴ (ترجمہ) خدا یا مجھے وہ زلزلہ دکھا جو اپنی شدّت کی وجہ سے نمونہ ٔ قیامت ہے۔(بدر مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۲؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۲ و الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۶ء صفحہ ۱ میں ان الہامات کی تاریخ ۸؍اپریل ۱۹۰۶ء درج ہے نیز تحریر ہے کہ ’’یعنی اس میں بہت جانوں کا نقصان ہوگا یہ نہیں کہ حقیقت میں قیامت آجائے گی بلکہ یہ معنی ہیں کہ دنیا پر سخت صدمہ ہوگا اور بہت جانیں تلف ہوں گی۔‘‘ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ پیشگوئی حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز کے زمانہ میں پوری ہوئی چنانچہ حضور فرماتے ہیں۔’’ یہ زلزلہ بھی میرے زمانہ میں آیا۔‘‘ (الفضل مورخہ ۲۰؍ جولائی ۱۹۴۴ء صفحہ ۳) ۶ (ترجمہ) ۱۔خدایا مجھے وہ زلزلہ دکھا جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ ٔ قیامت ہے۔۲۔خدا تعالیٰ تمہیں وہ زلزلہ دکھائے گا جو اپنی شدت کی وجہ سے نمونہ ٔ قیامت ہوگا۔