تذکرہ — Page 36
جس کے یہ معنی ان کے آگے اور نیز ہر ایک کے آگے میں نے ظاہر کئے کہ خدا تعالیٰ کا ارادہ ہے کہ وہ دو عورتیں میرے نکاح میں لائے گا۔ایک بِکْر ہوگی اور دوسری بیوہ۔چنانچہ یہ الہام جو بِکْر کے متعلق تھا پورا ہوگیا اور اس وقت بفضلہٖ تعالیٰ چار پسر اس بیوی سے موجود ہیں اور بیوہ کے الہام کی انتظار؎۱ ہے۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۱) ۱۸۸۱ء (الف) ’’ایک ہندو آریہ… ایک مدت سے بہ مرضِ دق مبتلا تھا اور رفتہ رفتہ اُس کی مرض انتہا کو پہنچ گئی اور آثار مایوسی کے ظاہر ہوگئے۔ایک دن وہ میرے پاس آکر اور اپنی زندگی سے ناامید ہوکر بہت بے قراری سے رویا۔میرا دل اُس کی عاجزانہ حالت پر پگھل گیا اور میں نے حضرتِ احدیت میں اُس کے حق میں دُعا کی۔چونکہ حضرتِ احدیت میں اُس کی صحت مقدر تھی اِس لئے دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ الہام ہوا۔قُلْنَا یَـا نَـارُ کُـوْنِیْ بَـرْدًا وَّ سَلَامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ توُ سرد اور سلامتی ہوجا چنانچہ اُسی وقت اُس ہندو اور نیز کئی اور ہندوؤں کو کہ جو اَب تک اس قصبہ میں موجود ہیں اور اِس جگہ کے باشندہ ہیں اُس الہام سے اطلاع دی گئی اور خدا پرکامل بھروسہ کرکے دعویٰ کیا گیا کہ وہ ہندو ضرور صحت پا جائے گا اور اس بیماری سے ہرگز نہیں مرے گا چنانچہ بعد اِس کے ایک ہفتہ نہیں گذرا ہوگا کہ ہندو مذکور اُس جاں گداز مرض سے بکلّی صحت پاگیا۔وَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۵۲، ۲۵۳ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱) (ب) ’’ملاوامل کو دِق کی بیماری ہوگئی۔جب وہ خطرہ کی حالت میں پڑگیا تو اُس کے لئے دعا کی گئی۔الہام ہوا۔قُلْنَا یَـا نَـارُ کُـوْنِیْ بَـرْدًا وَّ سَلَامًا یعنی اے تپ کی آگ ٹھنڈی ہوجا۔پھر خواب میں دکھایا گیا کہ میں نے اس کو قبر سے نکال لیا ہے۔یہ الہام اور خواب دونوں قبل از وقوع اس کو بتلائے گئے۔‘‘ ( شحنہء حق۔روحانی خزائن جلد ۲ صفحہ ۳۸۱) ۱۸۸۱ء ’’جب پہلے الہام؎۲کے بعد… ایک عرصہ گذر گیا اور لوگوں کی عدم توجہی سے طرح طرح کی ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) خاکسار کی رائے میں یہ الہام الٰہی اپنے دونوں پہلوؤں سے حضرت امّاں جانؓکی ذات میں ہی پورا ہوا ہے جو بِکْر یعنی کنواری آئیں اور ثَیِّب یعنی بیوہ رہ گئیں۔وَاللہُ اَعْلَمُ۔۲ الہام ۱۸۷۹ء ’’بالفعل نہیں‘‘ صفحہ۲۸ (ناشر)