تذکرہ — Page 544
ہوکر اُمّتِ محمدیہ کو باہمی عَدل پر قائم کرے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۳۷ مورخہ۲۴؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۴۱ مورخہ۲۴؍ نومبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲۹؍ نومبر۱۹۰۵ء ’’۱۔بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔۲۔قَلَّ۱؎ مِیْعَادُ رَبِّکَ۔۳۔اُس دن سب پراُداسی چھا جائے گی۔۴۔قَـرُبَ اَجَلُکَ الْمُقَدَّرُ۔وَلَا نُبْقِیْ لَکَ مِنَ الْمُخْزِیَـاتِ ذِکْـرًا۔‘‘۲؎ (الحکم۳؎ جلد ۹ نمبر۴۲ مورخہ ۳۰؍ نومبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۱۹۰۵ء ’’ فرمایا۔میرے ایک چچا صاحب فوت ہوگئے تھے۔عرصہ ہوا۔مَیں نے ایک مرتبہ اُن کو عالَمِ رؤیا میں دیکھا اور ان سے اس عالَم کے حالات پوچھے کہ کِس طرح انسان فوت ہوتا ہے اور کیا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اُس وقت عجیب نظارہ ہوتا ہے۔جب انسان کا آخری وقت قریب آتا ہے تو دو فرشتے جو سفیدپوش ہوتے ہیں سامنے آتے ہیں اور وہ کہتے آتے ہیں مَولا بس۴؎۔مَولا بس۔(فرمایا۔حقیقت میں ایسی حالت میں جب کوئی مفید وجود درمیان سے نکل جاتا ہے یہی لفظ مَولا بس موزوں ہوتا ہے)۔اور پھر وہ قریب آ کر دونوں اُنگلیاں ناک کے آگے رکھ دیتے ہیں۔۱ (ترجمہ) ۲۔تیرے رَبّ کی میعاد تھوڑی رہ گئی ہے۔۴۔قریب ہے تیری اجل مقدر اور تیرے ذلیل کرنے والے امور میں سے کسی کا ذکر ہم باقی نہ رکھیں گے۔(بدر مورخہ ۸؍دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ ) ۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔اِن الہامات پر غور کرکے مَیں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ زمانہ بہت ہی قریب ہے۔پہلے بھی یہ الہام ہوا تھا۔اس وقت اس کے ساتھ ایک رؤیا بھی تھی۔(الحکم مورخہ ۱۰؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۸؍ دسمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲ میںیہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں نیز الہام نمبر۱ کے الفاظ یہ ہیں۔بہت دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔۴ (نوٹ از سیّد عبد الحی) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تین انگوٹھیاں تھیں۔ان میں سے ایک کے نگینہ پر مولیٰ بس اس انداز سے کندہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد یہ انگوٹھی حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کے حصہ میں آئی تھی۔اب یہ انگوٹھی حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پاس ہے۔