تذکرہ — Page 535
۲۸؍ستمبر۱۹۰۵ء ’’ ۱۔لَا۱؎ تَـخَفْ اِنِّیْ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ ۲۔وَ قَالُوْا مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَ۔ہٗ۔ھَیْـھَاتَ ھَیْـھَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۔۳۔قُلْ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ ذُوالْاِقْتِدَارِ اَفَلَا تُؤْمِنُوْنَ۔۴۔قُلْ عِنْدِیْ شَھَادَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ فَھَلْ اَنْتُمْ مُؤْمِنُوْنَ۔۵۔وَ مَا۲؎ اَزِیْدُ لَکُمْ مِّنْ اَمْرِیْ۔وَ الْـحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔۶۔اَلَمْ تَـرَکَیْفَ فَعَلَ رَبُّکَ بِـاَصْـحٰبِ الْفِیْلِ۔اَ لَمْ یَـجْعَلْ کَیْدَ ھُمْ فِیْ تَضْلِیْلٍ۔‘‘۳؎ ( کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۱) ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء ’’اِنَّـآ۴؎ اَنْـزَلْنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْ رِ اِنَّـا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ۔‘‘۵؎ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۷ مورخہ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۴ مورخہ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۲) یکم؍ اکتوبر۱۹۰۵ء رؤیا۔’’ کسی شخص نے ہمارے ہاتھ پر سونف رکھ دی ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۷ مورخہ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۵ مورخہ۱۰؍ اکتوبر۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۲؍ اکتوبر۱۹۰۵ء ’’ دیکھا کہ ایک مکان ہے۔اس پر چڑھنے کے لئے ایک زینہ لگا ہوا ہے جو لوہے کا ہے اور تختے پاؤں رکھنے کے بھی ہیں۔اُوپر ایک دروازہ ہے۔مَیں اس زینہ پر چڑھتا ہوں مگر چڑھ نہیں سکتا۔اتنے میں اُوپر سے کسی نے دروازہ بند کردیا اور کہا کہ دوسرے راستہ سے آؤ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ راستہ تو نزدیک ہے اور فوراً پہنچ سکتے ہیں مگر دوسرا راستہ دُور ہے۔کوئی دو تین سَو گز کا فاصلہ ہے۔پس ہم اُس دوسرے ۱ (ترجمہ) ۱۔مت خوف کر۔مجھ سے میری درگاہ میں رسول خوف نہیں کیا کرتے ۲۔اور کہتے ہیں کون ہے جو اس کے پاس شفاعت کرے۔وہ بات جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا ہے بالکل انہونی ہے ۳۔کہہ اللہ تعالیٰ غالب ہے قدرت رکھنے والا۔پس کیا تم ایمان نہیں لاتے ۴۔کہہ میرے پاس اللہ کی طرف سے گواہی ہے۔پس کیا تم ایمان لاتے ہو؟ (بدر مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱) ۲ (ترجمہ از ناشر) ۵۔اورمَیں اپنی طرف سے کچھ نہیں بڑھاتا اور سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔۶۔کیا تُو نہیں جانتا کہ تیرے ربّ نے ہاتھی والوں سے کیا سلوک کیا؟ کیا اس نے ان کی تدبیروں کو رائیگاں نہیں کردیا؟ ۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱ اورالحکم مورخہ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۲ پر الہام نمبر ۴کے آخر پر مُؤْمِنُوْنَ کی بجائے تُـؤْمِنُوْنَ درج ہے۔نیز الہام نمبر ۵ میں وَمَا کی بجائے قُلْ مَا کے الفاظ درج ہیں اور ان الہامات کی تاریخ نزول ۲۹؍ستمبر درج ہے۔۴ (ترجمہ) ہم نے اس کو لیلۃ القدر میں اُتارا ہے۔یقیناً ہم ہی اُتارنے والے ہیں۔(بدر مورخہ۶؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱) ۵ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۶؍اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۱ اورالحکم مورخہ۳۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۱۲ پر آنے والے تمام الہامات کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالہ سے ۲۸؍ستمبر ۱۹۰۵ء کے تحت آچکے ہیں اس لئے صرف ایک الہام جو کاپی میں نہیں آیا ۲۹؍ستمبر ۱۹۰۵ء کے تحت بدر و الحکم کے حوالہ سے درج کیا گیا ہے۔