تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 526 of 1089

تذکرہ — Page 526

(د) فرمایا۔’’ مولوی صاحب کی زیادہ علالت کے وقت مَیں بہت دعا کرتا تھا اور بعض نقشے میرے آگے ایسے آئے جن سے نا اُمیدی ظاہر ہوتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا موت کا وقت ہے…یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بشارت نازل کی، اور عبداللہ سنوری والا خواب مَیں نے دیکھا جس سے نہایت درجہ غمناک دل کو تشفّی ہوئی… اِس دعا میں مَیں نے ایک شفاعت کی تھی جیسا کہ خواب کے الفاظ سے بھی ظاہر ہے کہ یہ شخص میرا دوست ہے۔خدا کی قدرت اور اس کا عالم الغیب ہونا ظاہر ہونا تھا کہ مولوی صاحب بچ گئے۔خدا کی کتب میں نبی کے ماتحت اُمّت کو عورت کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں ایک جگہ نیک بندوں کی تشبیہ فرعون کی عورت سے دی گئی ہے اور دوسری جگہ عمران کی بیوی سے مشابہت دی گئی ہے۔اناجیل میں بھی مسیح کو دولہا اور اُمّت کو دُلہن قرار دیا ہے۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُمّت کے واسطے نبی کی ایسی ہی اطاعت لازم ہے جیسی کہ عورت کو مرد کی اطاعت کا حکم ہے۔اِسی واسطے ہماری رؤیامیں عبداللہ نے کہا کہ میری بیوی بیمار ہے۔عبداللہ نبی کا نام ہے۔قرآن شریف میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عبداللہ آیا ہے۔مِٹّھن سے مراد وہ لذّت اور راحت صحت کی ہے جو بیماری کی تلخی کے بعد نصیب ہوتی ہے۔مقبول سے مراد ہے کہ دعا قبول ہوگئی۔یہ سب گہرے استعارات ہیں اور تمثلات ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر۲۳ مورخہ۷؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۲ مورخہ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۱۹۰۵ء ’’بہت؎۱ عرصہ پہلے یہ بھی دیکھا گیا تھا کہ جس چوبارہ میں مولوی صاحب رہتے ہیں وہ چوبارہ گرگیا۔‘‘ ( الحکم جلد۱۰ نمبر۶ مورخہ۱۷؍ فروری۱۹۰۶ء صفحہ۱۱) ۳۱؍ اگست۱۹۰۵ء ’’بعد ظہر الہام ہوا۔اَرِ نِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ‘‘؎۲ ( الحکم جلد ۹ نمبر۳۱ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ ۱۰۔بدر جلد ۱ نمبر۲۲ مورخہ۳۱؍ اگست ۱۹۰۵ء صفحہ۲) ۲؍ستمبر۱۹۰۵ء ۱ چونکہ اِس رؤیا کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی اِس لئے اوپر کی مناسبت سے اسے یہاں درج کیا گیا۔(شمس) ۲ (ترجمہ از مرتّب) مجھے موعودہ ساعت کا زلزلہ دکھا۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اِس الہام یعنی اَرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ کے بعد ۹؍ مارچ ۱۹۰۶ء کو الہام ہوا رَبِّ لَا تُرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔رَبِّ لَا تُرِنِیْ مَوْتَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ بظاہر یہ دونوں الہام متضاد معلوم ہوتےہیں لیکن دراصل ان میں کوئی تضاد نہیں۔پہلے الہام سے رؤیت کشفی مراد ہے اور دوسرے الہام سے زلزلۃ السّاعۃ کی پیشگوئی