تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 30 of 1089

تذکرہ — Page 30

اُن کو کہا کہ تم کچھ خوف مت کرو خدا ہر یک چیز پر قادر ہے وہ تمہیں نجات دے گا۔چنانچہ یہ خبر اِنہیں دنوں میں بیسیوں ہندوؤں اور آریوں اور مسلمانوں کو سنائی گئی جس نے سنا بعید از قیاس سمجھا اور بعض نے ایک امرِ محال خیال کیا اور میں نے سنا ہے کہ اُنہیں ایام میں محمد حیات خان صاحب کو بھی یہ خبر کسی نے لاہور میں پہنچادی تھی۔سو اَلْـحَمْدُلِلہِ وَالْمِنَّۃِ کہ یہ بشارت بھی جیسی دیکھی تھی ویسی ہی پوری ہوئی۔‘‘ (براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۲۷۹، ۲۸۰ حاشیہ در حاشیہ نمبر۱ ) ۱۸۸۰ء ’’ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَّنْ اَرَادَ اِ ھَا نَتَکَ۔یعنی میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔یہ ایک نہایت پُر شوکت وحی اور پیشگوئی ہے جس کا ظہور مختلف پیرایوں اور مختلف قوموں میں ہوتا رہا ہے اور جس کسی نے اس سلسلہ کو ذلیل کرنے کی کوشش کی وہ خود ذلیل اور ناکام ہوا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۶۷) قریباً ۱۸۸۰ء ’’ایک دفعہ کشفی طور پر مجھے یا  روپیہ دکھائے گئے اور پھر یہ الہام ہوا کہ ماجھے خان کا بیٹا اور شمس الدین پٹواری ضلع لاہور بھیجنے والے ہیں پھر بعد اس کے کارڈ آیا جس میں لکھا تھا کہ  ماجھے خان کے بیٹے کی طرف سے ہیں اور یا شمس الدین پٹواری کی طرف سے ہیں۔پھر اسی تشریح سے روپیہ آئے۔(نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۸۰) ۱۸۸۱ء ’’ ایک بزرگ… جن کا نامِ نامی عبداللہ غزنوی تھا ایک مرتبہ میں نے اِس بزرگ باصفا کو خواب میں اُن کی وفات کے بعد دیکھا کہ سپاہیوں کی صورت پر بڑی عظمت اور شان کے ساتھ بڑے پہلوانوں کی مانند مسلّح ہونے کی حالت میں کھڑے؎۱ ہیں تب میں نے کچھ اپنے الہامات کا ذکر کرکے اُن سے پوچھا کہ مجھے ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ جب مولوی صاحب غزنوی ہماری مذکورہ بالا خواب کے مطابق فوت ہوگئے تو جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے تھوڑے دنوں کے بعد میں نے ان کو خواب میں دیکھا کہ میں اپنا ایک خواب ان کے آگے بیان کررہا ہوں اور وہ ایک بازار میں کھڑے ہیں جو ایک بڑے شہر کا بازار ہے اور پھر میں ان کے ساتھ ایک مسجد میں آگیا ہوں اور اُن کے ساتھ ایک گروہ کثیر ہے اور سب سپاہیانہ شکل پر نہایت جسیم مضبوط وردیاں کسے ہوئے اور مسلح ہیں اور اُنہیں میں سے ایک مولوی عبداللہ صاحب ہیں کہ جو ایک قوی اور جسیم جوان نظر آتے ہیں وردی کسے ہوئے ہتھیار پہنے ہوئے اور تلوار میان میں لٹک رہی ہے اور میں دل میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ لو گ ایک عظیم الشان حکم کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور میں خیال کرتا ہوں کہ باقی سب فرشتے ہیں مگر تیاری ہولناک ہے۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۶۱۶)