تذکرہ — Page 29
بےاختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اس حالت سے نجات ہو مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلی مجھے چھوڑ گئی اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا۔جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا۔وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّـمَّا نَـزَّ لْنَا عَلٰی عَبْدِ نَـا فَاْتُوْا بِشِفَآءٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ یعنی اگر تمہیں اُس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۲۰۸، ۲۰۹) ۱۸۸۰ء (تخمیناً) ’’کوئی ۲۵، ۲۶سال کا عرصہ گذرا ہے ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔‘‘ (الحکم جلد ۹ نمبر ۳۲ مورخہ ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ ۳ ) ۱۸۸۰ء (تخمیناً) ’’سردار محمد حیات خاں۱؎ کا کبھی آپ نے نام سنا ہی ہوگا کہ جو گورنمنٹ کے حکم سے ایک عرصہ دراز تک معطل رہے۔۲؎ ڈیڑھ سال کا عرصہ گذرا ہوگا یا شاید اس سے زیادہ کچھ عرصہ گذرگیا ہوگا کہ جب طرح طرح کی مصیبتیں اور مشکلیں اور صعوبتیں اِس معطلی کی حالت میں اُن کو پیش آئیں اور گورنمنٹ کا منشا بھی کچھ بر خلاف سمجھا جاتا تھا اُنہیں دنوں میں اُن کے بَری ہونے کی خبر ہم کو خواب میں ملی اور خواب میں مَیں نے ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) نواب سردار محمد حیات خان صاحب جج تھے جن پر گورنمنٹ کی طرف سے کئی الزام قائم کئے گئے تھے اورانہیں معطّل کرکے ان پر مقدمہ چلایا گیا تھا۔اس موقع پر مرزا غلام قادر صاحب مرحوم نے ان کے لئے دُعا کے واسطے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہا۔چنانچہ جب حضورؑنے ان کے لئے دُعا کی تو حضورؑ کو اُن کے متعلق بذریعہ کشف یہ بشارت ملی۔۲ (نوٹ از الحکم) ’’سردار حیات خاں ایک دفعہ کسی مقدمہ میں معطل ہوگیا تھا۔میرے بڑے بھائی مرزا غلام قادر مرحوم نے مجھے کہا کہ ان کے لئے دعا کرو۔میں نے دعا کی تو مجھے دکھا یا گیا کہ یہ کرسی پر بیٹھا ہوا عدالت کررہا ہے۔میں نے کہا کہ یہ تو معطل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا کہ اُس جہان میں معطل نہیں ہوا۔تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ بحال ہوجائے گا چنانچہ اس کی اطلاع دی گئی اور تھوڑے ہی عرصہ کے بعد وہ پھر بحال ہوگیا۔‘‘ (الحکم مورخہ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۲ ء صفحہ ۶ )